DI Khan Attack on Custom Officers Capitalnewspoint.com

ڈی آئی خان میں امان میلہ چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش حملہ، 11 افراد جاں بحق، 30 سے زائد زخمی

ڈیرہ اسماعیل خان (بیورو رپورٹ) ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں ڈی آئی خان-کوئٹہ روڈ پر واقع امان میلہ چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش حملے میں پاکستان کسٹمز، ایکسائز اور پولیس کے اہلکاروں سمیت متعدد افراد کے جاں بحق اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ ایک بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے کیا گیا، جسے مبینہ طور پر انسدادِ اسمگلنگ چیک پوسٹ سے ٹکرایا گیا ، دھماکا انتہائی شدید نوعیت کا تھا، جس کے نتیجے میں چیک پوسٹ کو نقصان پہنچا اور موقع پر موجود افراد متاثر ہوئے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر 11 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے، جن میں 6 پولیس اہلکار، 2 کسٹمز اہلکار، 2 خواتین اور ایک 2 سالہ بچہ شامل ہیں، جبکہ 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں ، زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کسٹمز کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق حملے میں کسٹمز کے اہلکار بھی نشانہ بنے۔ شہید ہونے والے کسٹمز اہلکاروں میں حوالدار فرمان اللہ اور سپاہی اسامہ شامل ہیں، جبکہ انسپکٹر کاشف، سپاہی آفاق عادل، محبوب اور افان کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔

امدادی کارروائی کے دوران بھی حملے کی اطلاع :

پاکستان کسٹمز کے مطابق حملے کے بعد زخمیوں کو طبی امداد کے لیے منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا، تاہم امدادی اور ریسکیو کارروائی کے دوران بھی ایک اور حملے کی اطلاع ہے, اس واقعے میں ریسکیو گاڑیوں کے ڈرائیورز کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

دھماکے کے بعد چیک پوسٹ پر آگ بھڑک اٹھی جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر طبی مراکز منتقل کیا گیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔

سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔ واقعے کے بعد چیک پوسٹ اور گرد و نواح میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔

ایف بی آر کی شدید مذمت :

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے امان میلہ چیک پوسٹ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے ، ایف بی آر کے مطابق حملے میں پاکستان کسٹمز کے دو اہلکار شہید جبکہ چار زخمی ہوئے۔ ادارے نے کہا کہ زخمیوں کو منتقل کرنے والی ایمبولینس کو نشانہ بنانا بھی قابل مذمت ہے اور زخمیوں و امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانا انسانی و اخلاقی اصولوں کے منافی ہے۔

ایف بی آر نے شہید اہلکاروں کے اہل خانہ کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ادارے کے مطابق دہشت گردی کے واقعات کسٹمز اہلکاروں کے فرائض اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کے عزم کو متاثر نہیں کریں گے، جبکہ چیک پوسٹوں پر معمول کے مطابق ذمہ داریاں انجام دی جاتی رہیں گی۔

پاکستان کسٹمز کا مؤقف :

پاکستان کسٹمز نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ قومی ذمہ داریوں اور ملک کی معاشی سرحدوں کے تحفظ کے لیے فرائض جاری رکھے جائیں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایسے واقعات ادارے کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتے اور قومی ذمہ داریوں کی ادائیگی جاری رکھی جائے گی۔

امان میلہ چیک پوسٹ پہلے بھی اہم انسدادِ اسمگلنگ مرکز رہی :

امان میلہ چیک پوسٹ ڈیرہ اسماعیل خان میں انسدادِ اسمگلنگ کارروائیوں کے حوالے سے اہم مقام رکھتی ہے، ایف بی آر کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق نومبر 2025 میں اسی چیک پوسٹ پر پاکستان کسٹمز نے ایک مسافر بس سے 15.2 کلوگرام کرسٹل میتھ برآمد کی تھی، جبکہ بعد ازاں کسٹمز عملے کو ضبط شدہ منشیات کی منتقلی کے دوران مسلح حملے کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔