کراچی (بیورو رپورٹ) امیر سیاسی پارٹی جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے دفاعی معاہدے میں ایران، فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک کو شامل کیا جائے ، شہرِ قائد میں کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی غیرقانونی ریاست کسی صورت قبول نہیں، فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لیے پوری امت مسلمہ کو جدوجہد تیز کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے فلسطینی عوام ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں اور جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج نے غزہ میں بمباری کی، جبکہ جنگ بندی کے دوران طے پانے والی باتوں پر بھی اسرائیل نے عمل نہیں کیا ، امیر سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ اگر کوئی دفاعی معاہدہ مسلمانوں کی حفاظت کے لیے ہے تو سب سے پہلے غزہ کے لوگوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دفاعی معاہدے میں ایران، فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، امریکا نے اسرائیل کے ساتھ 2.8 ارب ڈالر کے اسلحے کا معاہدہ کیا ہے، جبکہ غزہ میں اس وقت 10 ہزار افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تقسیم اور انتشار کسی صورت امت کے حق میں نہیں، جہاں جہاں مظلوم ہیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ظلم کی ہر شکل کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے، حماس کی جدوجہد دین میں رنگی ہوئی ہے اور اس کے مجاہدین اسلام کی سربلندی کے لیے کھڑے ہیں۔
امیر سیاسی پارٹی جماعت اسلامی نے کہا کہ برطانیہ نے 1917 میں یہودیوں کے لیے الگ وطن کے قیام کا اعلان کیا تھا، جبکہ کشمیر پر بھارت کے غیرقانونی تسلط کو بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا ، حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن فلسطینیوں کے لیے 10 ارب روپے سے زائد کی امداد بھجوا چکے ہیں اور ’’بنو قابل‘‘ پروگرام بھی فلسطین کے لوگوں کے لیے ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جماعت اسلامی کی ایک جدوجہد پٹرولیم لیوی کے خلاف بھی جاری ہے، تاہم اس کے باوجود فلسطینی بھائیوں کو نہیں بھولا گیا ، امیر سیاسی پارٹی جماعت اسلامی نے امریکا میں نوجوانوں سے متعلق 85 فیصد کی ایک رائے عامہ کا حوالہ دیتے ہوئے نیتن یاہو پر شدید تنقید بھی کی۔

