سہیل آفریدی کی گرفتاری کا حکم؟ انسداد دہشت گردی عدالت کا تحریری فیصلہ جاری

پشاور (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ، عدالت کے تحریری حکم نامے کے مطابق کیس میں سپیشل پراسیکیوٹر نعمان الحق کاکاخیل کو ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے جبکہ ریڈیو پاکستان کیسز میں 9 ملزمان تاحال مفرور ہیں۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پراسیکیوشن نے پولیس کی جانب سے سپلیمنٹری چالان عدالت میں جمع کرا دیا ہے، پولیس چالان میں سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور جھگڑا، عرفان سلیم اور عامر خان چمکنی کو نامزد کیا گیا ہے جنہیں تاحال گرفتار نہیں کیا گیا ، عدالت نے ملزمان کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 204 کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 4 نومبر تک ملتوی کر دی۔

پولیس کو سہیل آفریدی اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کا اختیار مل گیا، دوسری جانب قانونی ماہرین کے مطابق عدالتی حکم کے بعد پولیس کو سہیل آفریدی اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کا اختیار مل گیا ہے، پولیس سہیل آفریدی کو کسی بھی وقت گرفتار کر سکتی ہے جبکہ ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنا پولیس کی ذمہ داری ہوگی۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت میں پیشی کے بعد پری ٹرائل شروع ہو جائے گا، عدالت سہیل آفریدی کو تفتیش کیلئے پولیس کے حوالے بھی کر سکتی ہے جبکہ ضمانت کی درخواست کیلئے ملزم کا خود پیش ہونا ضروری ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق عدالت میں عدم پیشی کی صورت میں ملزمان کو اشتہاری قرار دیا جا سکتا ہے، اشتہاری قرار دیے جانے کی صورت میں ملزمان کو الگ سے مزید 10 سال کی سزا بھی دی جا سکتی ہے جبکہ سہیل آفریدی کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہلی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔