کراچی (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) امیر سیاسی پارٹی جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے خلاف اور عوامی حقوق کے حصول کے لیے جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ کسی صورت ملتوی نہیں ہوگا، نومبر کے وسط میں لانگ مارچ کیا جائے گا۔
ادارہ نور حق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے پٹرولیم لیوی کی شدید مذمت کی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مارچ سے قبل لیوی ختم کرنے کے لیے شفاف اور واضح نظام وضع کیا جائے ، حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی اسلام آباد مارچ کے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے گی، پٹرولیم لیوی کا 70 فیصد سے زائد بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے، جو اس مد میں حکومت کو 100 ارب روپے سے زائد ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے حکومت کی ریلیف پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر ماہ عوام سے ڈیڑھ سو ارب روپے لیوی وصول کرتی ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں صرف 32 ارب روپے کا ریلیف دیا جاتا ہے ، امیر سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اس نامکمل ریلیف کو قبول نہیں کرے گی اور عوام کو ان کا مکمل حق ملنا چاہیے، بصورت دیگر حتمی فیصلہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کی جاری احتجاجی تحریک کے باعث حکومت کا ہاتھ کسی حد تک رکا ہے اور عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف مل سکا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ فارم 47 کی حکومت ہو یا 48 کی، عوام کو ریلیف دینے کا اختیار حکومت کے پاس ہے اور سیاسی پارٹی جماعت اسلامی عوامی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کا کوئی ذاتی مفاد نہیں، وہ عوامی حقوق کی خاطر میدان میں موجود ہے اور اپنے مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھے گی۔

