Deadline for Telecom Companies to Improve Services in Islamabad and Rawalpindi Expires capitalnewspoint.com

جڑواں شہروں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کا امتحان، پی ٹی اے کی ڈیڈلائن ختم

اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروسز زونگ، جاز، ٹیلی نار اور یوفون کی بہتری کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے موبائل کمپنیوں کو دی گئی ڈیڈلائن آج 31 اکتوبر کو ختم ہوگئی ، پی ٹی اے نے موبائل آپریٹرز کو دونوں شہروں میں نیٹ ورک کوریج بہتر بنانے اور سروسز سے متعلق مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اس سلسلے میں پی ٹی اے کے ڈی جی انفورسمنٹ بریگیڈیئر (ر) عامر شہزاد نے جڑواں شہروں کے مختلف علاقوں میں موبائل نیٹ ورک کا ڈرائیو ٹیسٹ کیا اور سروسز کے معیار کا جائزہ لیا ، ڈرائیو ٹیسٹ کے دوران بلیو ایریا، کشمیر ہائی وے، مارگلہ روڈ، ایران ایونیو، پشاور روڈ، 26 نمبر چونگی، ترنول اور اسلام آباد ایئرپورٹ سمیت دیگر مقامات پر موبائل نیٹ ورک زونگ، جاز، ٹیلی نار اور یوفون کی کارکردگی چیک کی گئی ، اس کے علاوہ ایکسپریس ہائی وے اور ٹی چوک روات میں بھی موبائل سروسز کا جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ٹیسٹ کے دوران ڈی جی انفورسمنٹ نے موبائل کمپنیوں کے متعلقہ حکام سے ٹیلی فونک رابطے بھی کیے ، پی ٹی اے کی جانب سے پاکستان میں موبائل ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں زونگ، جاز، ٹیلی نار اور یوفون کو نیٹ ورک کوریج اور سروسز کے معیار سے متعلق مسائل دور کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

ڈی جی انفورسمنٹ پی ٹی اے بریگیڈیئر (ر) عامر شہزاد کے مطابق ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد چیئرمین پی ٹی اے خود اسلام آباد اور راولپنڈی میں ٹیلی کام سروسز کا جائزہ لیں گے ، خراب نیٹ ورک اور ناقص سروسز پر متعلقہ کمپنیوں سے جوابدہی کی جائے گی، جبکہ کمپنیوں کو کوریج گیپ رپورٹ فراہم کرکے سروسز کے مسائل فوری حل کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔

بریگیڈیئر (ر) عامر شہزاد کا کہنا تھا کہ صارفین کو معیاری موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی پی ٹی اے کی اولین ترجیح ہے اور سروسز کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ، پی ٹی اے کی اس کارروائی کا مقصد جڑواں شہروں میں موبائل نیٹ ورک کی کمزور کوریج، کال ڈراپ، انٹرنیٹ کی سست رفتار اور دیگر سروس مسائل کی نشاندہی کرکے متعلقہ کمپنیوں زونگ، جاز، ٹیلی نار اور یوفون کو بہتری کے اقدامات پر عمل درآمد کا پابند بنانا ہے۔