راولپنڈی(سٹاف رپورٹر ) سیکریٹری ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نورالامین مینگل کی ہدایات پر اور ڈائریکٹر جنرل راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کنزہ مرتضیٰ کی زیر نگرانی میں آرڈی اے نے یونیورسٹی ٹاؤن ہاؤسنگ سکیم میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت تعمیلی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ قانون کے متعلقہ ضوابط کے تحت درج ذیل احکامات فوری طور پر نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جس میں ایم/ایس یونیورسٹی ٹاؤن پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک جمیل احمد خان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ منظور شدہ لے آؤٹ پلان (LOP) سے انحراف کرتے ہوئے کی گئی تمام غیر قانونی الاٹمنٹس اور فروخت کو فوری طور پر منسوخ کریں۔
مکمل ریکارڈ کے ساتھ ایک تفصیلی تعمیلی رپورٹ سات دن کے اندر آر ڈی اے میں جمع کرانا لازمی کرار۔ یونیورسٹی ٹاؤن کے مالک کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر وصول کی گئی تمام رقوم بشمول ایل پی جی/ایل این جی چارجز، مقدمہ بازی کے اخراجات اور اضافی ترقیاتی چارجز واپس کریں۔ اس ضمن میں مکمل دستاویزی ثبوت کے ساتھ تعمیلی رپورٹ ساٹھ دن کے اندر آر ڈی اے کو جمع کرانی ہوگی۔ یونیورسٹی ٹاؤن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 38 ملین روپے سے زائد واجب الادا سرکاری واجبات (لینڈ یوز کنورژن فیس اور سرچارجز) فوری طور پر جمع کرائے۔
متعدد نوٹسز کے باوجود ادائیگی نہ کرنے پر فی سال 17.5 فیصد سرچارج لاگو رہے گا جب تک مکمل رقم سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرائی گئی۔ اس کے علاوہ 2002ء سے جاری غیر قانونی ترقیاتی کاموں پر پنجاب ڈویلپمنٹ اتھارٹیز پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیمز رولز 2021 کے رول 37 کے تحت جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔ متاثرہ الاٹیز کے حقوق کی بحالی کے لیے آر ڈی اے نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ جن الاٹیز نے اپنی مکمل ادائیگی کر دی ہے انہیں فوری قبضہ دیا جائے۔
ایسے کیسز میں جہاں قبضہ ممکن نہیں (جیسے پلاٹس جو “ایٹین ہاؤسنگ سکیم” کو فروخت کیے گئے)، ان الاٹیز کو متبادل اراضی مساوی قیمت اور سہولیات کے ساتھ فراہم کی جائے۔ آر ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ ان احکامات پر عمل درآمد میں ناکامی کی صورت میں قانون، قواعد و ضوابط کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اور اس حوالے سے مزید کوئی نوٹس جاری نہیں کیا جائے گا۔

