اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) سکائی گارڈن ہائوسنگ پراجیکٹ اور فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائرز ہائوسنگ اتھارٹی کے چند افسران کی مبینہ ملی بھگت سے پراجیکٹ کے جے وی پاٹنرز نے پنجاب حکومت کی پابندی کے باوجود شاملاتی زمین پر مزید 7 بلاکوں کے پلاٹ فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی نے جے وی پاٹنرز کے ساتھ مل کر بھارہ کہو سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر پراجیکٹ شروع کیا۔ ذرائع کے مطابق اس ہائوسنگ منصوبے پر مجموعی طور پر 11بلاک کی منظوری لی گئی اور وفاقی وزیر ہائوسنگ نے چند ماہ قبل سکائی گارڈن بلاک اے بی سی ڈی کے پلاٹوں کا قبضہ بھی دےدیا ۔ ذرائع نے بایا کہ اس پراجیکٹ میں سات بلاک موضع مینگل شاملات ای‘ ایف‘ جی‘ ایچ‘ آئی‘ جے شامل ہیں یہ بلاک پنجاب حکومت کی زمین جو کہ شاملاتی ہے کو چیف انسپکشن ٹیم نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی انتظامیہ اور جے وی پاٹنرز چوہدری اسماعیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے روک دیا کہ وہ اس کی تشہیر اور پلاٹوں کی فروخت نہ کریں لیکن سکائی گارڈن ہائوسنگ پراجیکٹ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر سمیت دیگر چند افسران نے جے وی پاٹنرز کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ پلاٹ فروخت کرے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ پاٹنرز نے موقع پر زمین ایف جی ای ایچ اے کے پاس نہ ہونے کے باوجود ملک بھر میں شہریوں کو کروڑوں روپے کے پلاٹ فروخت کئے حالانکہ پنجاب حکومت نے اس پراجیکٹ کو کینسل کیا تھا سکائی گارڈن ہائوسنگ پراجیکٹ کے ڈائریکٹر سے ان کا موقف جاننے کے لئے رابطہ کیا تو انہوں نے پراجیکٹ کے حوالے سے جواب دینے کی بجائے خاموشی اختیار کرلی جبکہ اوصاف کو ایک جونیئر آفیسر نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے سکائی گارڈن کے معاملے میں کام سے روک دیا تھا.
جس کا لیٹر ڈی جی ہائوسنگ کو لکھا گیا تھا۔ کیپیٹل نیوز پوائنٹ نے سکائی گارڈن کے جے وی پاٹنرز چوہدری اسماعیل سے ان کا موقف جاننے کے لئے ان کے دفتر رابطہ کیا تو ان کے پی ایس نے بتایا کہ وہ بیمار ہیں حالانکہ وہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی میں پراجیکٹ ڈائریکٹر کے پاس بیٹھے تھے ان سے ملاقات ہوئی تو چوہدری اسماعیل نے بتایا کہ سکائی گارڈن پراجیکٹ میں پنجاب حکومت نے روک اتھا ہم نے ہائی کورٹ سے پنجاب حکومت کے خلاف آرڈر لے آئے ہیں ہائی کورٹ نے ہمیں اجازت دی ہے اگر میں نے پلاٹ فروخت کئے ہیں تو ہم زمین بھی فراہم کریں گے مجھ پر الزام غلط ہے۔

