اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے 30 ستمبر 2021 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا، سال 2021 میں موصول ہونے والی شکایات کی مجموعی تعداد 2,867 رہی۔ اپنے منصب سنبھالتے ہی معزز ایف ٹی او نے ملک بھر میں آگاہی مہمات اور سیشنز کا سلسلہ جاری کیا۔ ایف ٹی او کے مشیروں نے بھی اپنی ترجیحات میں ملک گیر آگاہی سیشنز شامل کیے، جن کی تعداد سیکڑوں میں رہی۔ ان کا براہِ راست نتیجہ یہ نکلا کہ عوام الناس کی جانب سے شکایات کے اندراج میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ چنانچہ اگلے سالوں میں یعنی 2022، 2023 اور 2024 میں شکایات کی تعداد بالترتیب 6,106، 7,889 اور 12,742 رہی۔
موجودہ سال 2025 میں اب تک ایف ٹی او سیکرٹریٹ کو 35,716 شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کے آئینہ دار ہیں کہ متاثرہ ٹیکس دہندگان کو اس فورم پر اپنے مسائل کے بروقت اور منصفانہ حل پر بڑھتا ہوا اعتماد اور بھروسہ حاصل ہوا ہے۔ معزز ایف ٹی او نے سفارشات پر عمل درآمد کو خصوصی اہمیت دی، جس کے نتیجے میں اس فورم کی 98 فیصد سفارشات پر عمل درآمد ممکن ہو سکا۔ مزید یہ کہ معزز صدرِ پاکستان نے بھی تقریباً 97 فیصد سفارشات کو برقرار رکھا، جبکہ چند ایک میں معمولی ترامیم کی گئیں یا نظرِ ثانی کے لیے واپس بھیجا گیا۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ معزز ایف ٹی او کی موجودہ چار سالہ مدت کے دوران مجموعی طور پر664،64 شکایات درج ہوئیں، جو گزشتہ 21 برسوں میں آنے والی پچھلی پانچ میعادوں میں موصول ہونے والی مجموعی118،37 شکایات سے کہیں زیادہ ہیں۔
مجھے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے Ombudsman Association (OICOA) کے سیکرٹری جنرل اور فورم آف پاکستان آمبڈسمین (FPO) کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دینے کا اعزاز حاصل رہا ہے، جس میں پاکستان کے تمام 14 محتسبین شامل ہیں۔ گزشتہ چار برسوں میں پاکستان کے محتسب نظام نے بین الاقوامی سطح پر بے مثال شناخت حاصل کی۔ آج ہمارے فورم کے ارکان میں ایشیائی آمبڈسمین کے صدر، انٹرنیشنل آمبڈسمین انسٹیٹیوٹ کے فرسٹ وائس پریزیڈنٹ اور آئی او آئی کے ایشیائی خطے کے ڈائریکٹر جیسے نمایاں عالمی منصب شامل ہیں، جو عالمی برادری میں پاکستانی محتسبین کی مضبوط ساکھ کا ثبوت ہیں۔بطور سیکرٹری جنرل OICOA، میں نے بین الاقوامی تعاون، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور پالیسی تبادلوں کو مضبوط بنا کر پاکستان کو عالمی امبڈزمین گورننس میں ایک نمایاں اور فعال شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔
اسلام آباد میں OICOA رہنماؤں کا ایک کامیاب اجلاس منعقد کیا گیا اور OICOA کو OIC میں الحاق شدہ حیثیت دلانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ایف ٹی او کے ایک اور نمایاں اقدام کے طور پر سفارتی شکایات کے فوری ازالے کے لیے Diplomatic Grievance Redressal Cell قائم کیا گیا، جس کے تحت اسلام آباد میں سفارتی برادری کے ساتھ متعدد براہِ راست سیشنز منعقد ہوئے، جن میں ان کے ٹیکس سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا گیا۔پاکستان کے ٹیکس محتسب ماڈل کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آج بنگلہ دیش اور تنزانیہ جیسے ممالک اسی طرز کا نظام اپنے ہاں قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔حاصل کردہ کامیابیوں میں 23 ارب روپے سے زائد کی ریکوریاں اور اوسطاً 34 دن میں شکایات کے فوری حل جیسی اہم پیش رفت شامل ہیں۔اپنے دورِ ملازمت میں میں نے نوجوانوں کی ترقی کو بھی خاص اہمیت دی۔ ایف ٹی او سیکرٹریٹ نے 2025 میں سرکاری شعبے کے سب سے بڑے انٹرن شپ پروگرامز میں سے ایک کامیابی سے مکمل کیا، جس کے تحت پاکستان بھر کے 150 سے زائد نوجوانوں کو شکایات کے نظام، تحقیق، عوامی رابطہ کاری اور ادارہ جاتی معاونت کا عملی اور منظم تجربہ فراہم کیا گیا.

