اسلام آباد ( سپیشل رپور ٹر)اسلام آباد ایئرپورٹ پر لاکھوں روپے کا سامان پکڑ نے پر پر چینی شہری سےمبینہ بھتہ خوری، ہراسانی اور بدسلوکی کا الزام تحققیات ا، نسپکٹر کو رشوت دینے کی کوشش چینی شہری چھوٹا نکلا سی سی ٹی وی فوٹیج نے پول کھول دیا رپورٹ ایف بی آر کو بھجوادی ،کسٹم افسران سےاپنی شکایت واپس لینے کی کوشش کا انکشاف۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے میں چیف کلکٹر کی ہدایت پر تفتیش کی گئی دوران تفتیش انکشاف ہو ا کہ کسٹم نے تین چینی شہریوں کے قبضے سے 16 کارٹن تجارتی نوعیت کے سامان کے برآمد ہوئے جن میں 150 گرم ملبوسات، 180 پینٹ، 180 شرٹس، 55 سلیوز سگریٹس اور مختلف برقی آلات شامل تھے جن کو کسٹم نے پکڑ لیا اور اس سے کا غذات طلب کئے تواس نے کسٹم انسپکٹر پر بھتہ خوری، ہراسانی اور بدسلوکی کے الزام عائد کر دئی.
جس پر چیف کلکٹرآفس میں تحریری شکایت جمع کروائی معاملے کی تحقیقات کی گئی ۔ چینی شہری اور انسپکٹر کے درمیان تمام رابطہ کسٹمز کے سرکاری چینی مترجمین کے ذریعے ہوا اور کسی قسم کی بدزبانی، دھمکی یا بھتہ خوری کا ثبوت نہیں ملا واقعہ 24 اکتوبر کو پیش آیا ذرائع کے مطابق ا یڈیشنل کلکٹر ایئرپورٹ کی نگرانی میں کی گئی سات صفحات پر مشتمل تفصیلی انکوائری میں سی سی ٹی وی فوٹیج، دستیاب ویڈیوز، بینک ٹیلرز، مترجمین، ملزم انسپکٹر اور چینی شہریوں کے متعدد بیانات شامل کیے گئے۔تحقیقات کے مطابق چینی شہری اور انسپکٹر کے درمیان تمام رابطہ کسٹمز کے سرکاری چینی مترجمین کے ذریعے ہوا اور کسی قسم کی بدزبانی، دھمکی یا بھتہ خوری کا ثبوت نہیں ملا۔ تاہم چند اہم عملی و ضابطہ جاتی کوتاہیاں ضرور سامنے آئیں۔رپورٹ کے مطابق انسپکٹر نے ڈیوٹی و ٹیکس ایک ملین روپے بتایا جبکہ بینک چالان کے مطابق واجب الادا رقم 7,95,521 روپے تھی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے یہ بھی واضح ہوا کہ بینک میں جمع کروائی گئی رقم 8,لاکھ 20 ہزارروپے تھی، جو ایک ملین نہیں تھی۔
مزید برآں، رقم چالان یا PSID جنریشن سے پہلے بینک میں جمع کرائی گئی انکوائری میں یہ بھی سامنے آیا کہ اسیسمنٹ انسپکٹر نے خود کی، جبکہ اس کا اختیار اسسٹنٹ آفیسر کے پاس ہوتا ہے۔ جمع شدہ رقم میں سے 25 ہزار روپے زائد تھے جو چینی شہریوں کو واپس نہیں کیے گئے۔تحقیقات میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ چینی شہریوں نے انسپکٹر کو رشوت دینے کی کوشش کی، جس کی گواہی متعدد بیانات اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے ملتی ہے۔ابعد ازاں اعلیٰ افسران سے چینی شیری نے ملاقات میں اپنی شکایت کو “غلط فہمی” قرار دے کر واپس لینے کی کوشش کی بعد ازاںوہ دوبارہ دفتر نہیں آیا دوسری جانب انسپکٹر صرف چھ ماہ قبل پولیس سے کسٹمز میں آیا تھا اور مکمل طور پر قواعد و ضوابط سے واقف نہیں تھا۔
تحقیقات کے مطابق معاملے میں دونوں فریقین کی غلطیاں موجود ہیں۔ چینی شہری تجارتی مقدار میں سامان لائے تھے اور ان کی شکایت کا مقصد دباؤ ڈالنا بھی ہوسکتا ہے، جبکہ انسپکٹر کی جانب سے ضابطے کی خلاف ورزیاں ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جس میں الزامات لگانا آسان ہوجاتا ہے۔تحقیقی رپورٹ میں انسپکٹر کے خلاف معطلی کی سفارش ایف بی آر کو بھجوا دی گئی ہے۔

