اسلام آباد (اسپیشل رپورٹر)وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے واضح احکامات اور نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر بیرونِ ملک باعزت روزگار فراہم کرنے کے وژن کے باوجود نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کے تحت مبینہ طور پر سنگین مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت تقریباً 10 ہزار نوجوانوں کی تربیت کے لیے وزیراعظم نے اربوں روپے کے فنڈز فراہم کیے اس قومی منصوبے کی شفافیت اور افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں حکومتِ پاکستان نے نوجوانوں کو عالمی معیار کی فنی تربیت فراہم کر کے بالخصوص سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں روزگار کے مواقع مہیا کرنے کے لیے اس پروگرام کے تحت تقریباً 15 ارب روپے کا خطیر بجٹ مختص کیا تھا، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب، ملتان، مظفرگڑھ، صادق آباد، سندھ اور کراچی جیسے بڑے شہروں اور پسماندہ علاقوں میں آج تک ایک بھی مکمل اور فعال سرکاری ٹریننگ سینٹر قائم نہیں کیا جا سکا۔
ذرائع کے مطابق تکامل (Takamul) کے تحت بھی ملک کے کسی حصے میں ایک بھی اسکل ٹیسٹنگ یا اسسمنٹ سینٹر کی منظوری نہیں دی جا سکی، جس کے باعث امیدواروں کو سعودی ویزا کے لیے اسکل ٹیسٹ اور اسسمنٹ کی اسائنمنٹ کے سلسلے میں لاہور اور اسلام آباد آنا پڑتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف امیدواروں پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے بلکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے نوجوانوں کو شدید سفری اور انتظامی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریننگ اور اسکل ٹیسٹنگ کے ٹھیکے قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے چند من پسند اداروں کو دیے گئے۔ ان میں Hazza Institute کا نام بھی سامنے آیا ہے، جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ادارے کے پاس نہ تو مناسب مالی بیک گراؤنڈ موجود ہے اور نہ ہی اس نوعیت کے بڑے سرکاری منصوبوں میں کوئی قابلِ ذکر سابقہ تجربہ رہا ہے، جس کے باعث دیے گئے معاملات پر شفافیت سے متعلق سوالات جنم لے رہے ہیں مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ Hazza Institute نے مبینہ طور پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ایک سرکاری پلاٹ سنبھالا ہوا ہے، تاہم اس ضمن میں الاٹمنٹ، منظوری اور قواعد و ضوابط کے مطابق طریقۂ کار سے متعلق کوئی واضح اور مستند ریکارڈ سامنے نہیں آ سکا، جس پر متعلقہ حکام کی جانب سے وضاحت کا انتظار ہے۔
ذرائع کے مطابق راولپنڈی کے مختلف علاقوں، جن میں ملک خالد، ٹھوکر نیاز بیگ، فرمان، سیٹلائٹ ٹاؤن اور جمیل راولپنڈی شامل ہیں، چند نام نہاد ٹریننگ سینٹرز کو ظاہر کر کے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے بلکہ نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ بھی سنگین ناانصافی کی جا رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تربیت، میڈیکل اور سرٹیفکیٹ کے مراحل میں امیدواروں کو دانستہ طور پر ناکام قرار دیا جاتا ہے اور بعد ازاں مبینہ طور پر بھاری رقوم وصول کر کے انہیں کامیاب قرار دے دیا جاتا ہے تحقیقاتی ذرائع کے مطابق اسکل ٹیسٹس کا ایک بڑا حصہ مبینہ طور پر گوندل ٹریڈ سینٹر کو منتقل کیا جا رہا ہے، جس کی کسی واضح ضابطہ جاتی، فنی یا انتظامی توجیہہ سامنے نہیں آ سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک مقررہ رقم کے عوض امیدواروں کو اسکل ٹیسٹ میں کامیاب قرار دیے جانے کے الزامات بھی زیرِ غور ہیں، جس سے پورے اسکل ڈویلپمنٹ سسٹم کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مبینہ غیر شفاف سرگرمیاں راولپنڈی کی 26 نمبر چونگی اور سیٹلائٹ ٹاؤن سمیت دیگر علاقوں میں بھی جاری ہیں، جس کے باعث وزیراعظم شہباز شریف کا نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور انہیں بیرونِ ملک باعزت روزگار فراہم کرنے کا وژن شدید متاثر ہو رہا ہے۔اس معاملے پر مؤقف حاصل کرنے کے لیے جب ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن، عامرجان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کسی وضاحت یا موقف دینے کے بجائے صرف یہ کہا کہ“آپ خبر شائع کر دیں.

