پورٹ قاسم میں روڈ ٹریفک کم کرنے کے لیے وزارتِ میرین اور ریلوے کا ریلوے پر بھاری مال برداری منتقل کرنے پر اتفاق

اسلام آباد(سٹاف پورٹر)وزارتِ میرین افیئرز اور وزارتِ ریلوے نے پورٹ قاسم میں روڈ پر بھاری مال برداری کو ریلوے پر منتقل کرنے کے لیے رسمی معاہدے کی جانب آگے بڑھنے پر اتفاق کیا، جس کا مقصد کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا اور مال برداری کی لاجسٹکس کو بہتر بنانا ہے یہ فیصلہ وفاقی وزیر برائے میرین افیئرز محمد جنید انور چودھری اور وزارتِ ریلوے کے تین رکنی وفد کی قیادت میں ایڈیشنل سیکرٹری رہت مرزا کے درمیان ملاقات میں کیا گیا۔ ملاقات میں کراچی پورٹس کے چیئرمین اور ٹیکنیکل ایڈوائزر بھی موجود تھے، جہاں پورٹ قاسم پر مخصوص ریلوے انفراسٹرکچر قائم کرنے پر تبادلۂ خیال کیا گیا تاکہ خاص طور پر خوردنی تیل کی مال برداری کو سپورٹ کیا جا سکے مجوزہ منصوبے کے تحت پاکستان ریلوے پورٹ قاسم میں خوردنی تیل اور مولاس کے علاقے میں زمین حاصل کرے گا تاکہ وہاں ریلوے اسٹیشن کے ساتھ اسٹوریج، لوڈنگ اور ہینڈلنگ کی سہولیات قائم کی جا سکیں، جس سے مال برداری براہِ راست جہاز سے ریلوے گاڑیوں میں منتقل کی جا سکے گی۔

وزیر جنید چودھری نے وفد کو بتایا کہ خوردنی تیل کی مال برداری کو روڈ سے ریلوے پر منتقل کرنے سے کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ نمایاں طور پر کم ہوگا اور پورٹ پر لاجسٹکس کی کارکردگی بہتر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے ریلوے کا کردار مضبوط ہوگا اور بڑے پیمانے پر کموڈٹی ہینڈلنگ زیادہ پائیدار اور کم لاگت کے ساتھ ممکن ہوگی وفد نے وزیر کو بتایا کہ پاکستان ریلوے پہلے ہی ایک نجی کمپنی کے ساتھ ریلوے پر مبنی خوردنی تیل کی مال برداری کے لیے معاہدہ کر چکی ہے، جس کے تحت پورٹ قاسم سے ملتان، لاہور، فیصل آباد، ہٹار اور پشاور تک تیل کی ترسیل یقینی بنائی جائے گی پاکستان ریلوے کے اندازے کے مطابق اس منصوبے کے تحت سالانہ تقریباً 100,000 ٹن خوردنی تیل روڈ سے ریلوے پر منتقل کی جائے گی، جس کے لیے ہر ماہ چار ٹرینیں چلائی جائیں گی، ہر ٹرین میں 25 وگنز شامل ہوں گے، جو ماہانہ تقریباً 6,000 ٹن خوردنی تیل لے جائیں گی۔

وزیر جنید چودھری نے کہا کہ یہ اقدام پورٹ سے منسلک لاجسٹکس کے جدید بنانے، نقل و حمل کے اخراجات کم کرنے اور طویل فاصلے کی ٹرکنگ سے پیدا ہونے والے ایندھن کے استعمال اور ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے حکومتی اقدامات کے عین مطابق ہے۔