راولپنڈی کے ترقیاتی منصوبوں میں کوئی رکاوٹ نہیں، 143 جعلی ہاؤسنگ سکیمز ختم کر دی گئیں .ڈی جی آر ڈی اے کنزہ مرتضیٰ

راولپنڈی (سٹاف رپورٹر) ڈائریکٹر جنرل راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کنزہ مرتضیٰ نے راولپنڈی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق آر ڈی اے کے دروازے عوام الناس کے لیے کھلے ہیں، شہریوں کی شکایات کو سنا جا تاہے اور ان کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ڈی جی آر ڈی اے نے کہا کہ اتھارٹی میں مزید بہتری لانے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ راولپنڈی میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں سے متعلق رپورٹس باقاعدگی سے وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کی جاتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ راولپنڈی کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کسی قسم کی رکاوٹ یا مشکل درپیش نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ رنگ روڈ منصوبہ بلاشبہ ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم اس منصوبے میں اعلیٰ معیار اور کوالٹی کو خصوصی طور پر مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ منصوبے کا 78 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور امید ہے کہ اسے مارچ 2026 کے اختتام تک مکمل کر لیا جائے گا۔ ڈی جی آر ڈی اے نے انکشاف کیا کہ راولپنڈی میں 143 جعلی ہاؤسنگ سکیمز کی نشاندہی کی گئی تھی، جن کا اب کوئی وجود نہیں رہا۔ جعلی ہاؤسنگ سکیمز میں سرمایہ کاری کرنے والے متاثرہ شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ جعلی سکیمز کی تمام سوشل میڈیا مارکیٹنگ مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔ ڈی جی آر ڈی اے نے شہریوں پر زور دیا کہ کسی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی میں سرمایہ کاری سے قبل مکمل تصدیق اور معلومات حاصل کریں، کیونکہ کسی بھی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی کو این او سی جاری نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ تمام غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز آر ڈی اے کے ریڈار پر ہیں، جبکہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کی فائلز پر کیو آر کوڈ کے اجرا کے لیے تمام ڈیٹا حاصل کر لیا گیا ہے۔ جن ہاؤسنگ سوسائٹیز کے پاس این او سی موجود ہے، وہ قانونی حیثیت کے ساتھ قائم ہیں۔ عوام الناس کو نقصان سے بچانے کے لیے آر ڈی اے کا کیو آر کوڈ سسٹم فعال کر دیا گیا ہے۔

غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف آر ڈی اے کی کارروائیوں کو نیب نے بھی سراہا ہے۔ یونیورسٹی ٹاؤن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آر ڈی اے نے کہا کہ یہ معاملہ سب کے علم میں ہے۔ اس سلسلے میں متاثرہ سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے سوسائٹی کے مالک کو طلب کیا گیا ہے، جبکہ نیب اور ایف آئی اے کو خط لکھ دیا گیا ہے اور مزید یہ کہ اس ہاءوسنگ سکیم کے مالکان کے قومی شناختی کارڈ زبلاک کرنے کے لیے بھی مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرین کے مسائل کے حل کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کام کر رہی ہے۔ بحریہ ٹاؤن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر نیب تحقیقات کر رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر آر ڈی اے اس سکیم کو ٹیک اوور کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ ڈی جی آر ڈی اے نے کہا کہ شہر کو مزید خوبصورت بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، گرین لائن منصوبے پر مزید بہتری اور خوبصورتی کے ساتھ کام کیا جائے گا۔

چیف ٹریفک آفیسر کو گرین لائن منصوبے کے حوالے سے مکمل تعاون کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ موٹر سائیکل سواروں کی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ مری روڈ کو مزید 15 فٹ تک کشادہ کیا جائے گا اور اس عمل کے دوران کسی بھی کاروبار کو نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ سی ایس آر کے تحت ہاؤسنگ سکیمز کی جانب سے مونومنٹس نصب کر کے شہر کو خوبصورت بنایا جائے گا، جبکہ بیوٹیفیکیشن اور گرین بیلٹس کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ نالہ لئی کے حوالے سے ڈی جی آر ڈی اے نے کہا کہ اس منصوبے پر پنجاب حکومت سے مزید بات چیت کی جائے گی، کیونکہ نالہ لئی ایک بڑا خطرہ ہے جو عوام کی جان و مال کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ راولپنڈی میں سیوریج کا مؤثر نظام موجود نہیں، شہر کے اختتامی حدود پر ٹریٹمنٹ پلانٹ ناگزیر ہے، کیونکہ 33 فیصد سیوریج اور باقی بارش کا پانی نالہ لئی میں شامل ہو کر اسے گندے نالے میں تبدیل کر دیتا ہے۔ ڈی جی آر ڈی اے نے کہا کہ دفعہ نافذ ہے، لہٰذا نالہ لئی میں کوڑا کرکٹ اور بلڈنگ میٹیریل ہرگز ڈمپ نہ کیا جائے۔ اس حوالے سے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنر کو مکمل نگرانی کی درخواست کر دی گئی ہیں۔