بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں مستقل ریکٹر نہ ہونے سے انتظامی تعطل، اسوا نے فوری تعیناتی کا مطالبہ کر دیا

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں مستقل ریکٹر کی عدم تعیناتی کے باعث جامعہ کے اہم انتظامی، مالی اور سروس معاملات شدید تاخیر کا شکار ہو چکے ہیں، جس سے ادارے کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ یونیورسٹی سٹاف ویلفیئر ایسوسی ایشن (اسوا) کے صدر نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل کا مستقل اور پائیدار حل صرف اور صرف مستقل ریکٹر کی فوری تعیناتی میں ہے اسوا کے صدر کے مطابق ریکٹر کی نشست خالی ہونے کے باعث بورڈ آف گورنرز (BOG) کے اجلاس طویل عرصے سے منعقد نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (DPC)، ملازمین کی اپ گریڈیشن، ٹائم سکیل پروموشنز اور دیگر اہم انتظامی فیصلے تعطل کا شکار ہیں، حالانکہ ان معاملات میں پہلے ہی ناقابلِ قبول حد تک تاخیر ہو چکی ہے۔ اس مسلسل جمود نے ملازمین میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ ماضی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے تحت چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو جامعہ کا ایکٹنگ ریکٹر مقرر کیا گیا تھا، تاہم چیئرمین ایچ ای سی کی مدت مکمل ہونے کے بعد نہ صرف یہ انتظام ختم ہو گیا بلکہ جامعہ ایک مرتبہ پھر مستقل قیادت سے محروم ہو گئی۔ حکومتی وجوہات کی بنا پر چیئرمین ایچ ای سی کی نئی تعیناتی تاحال عمل میں نہیں آ سکی، جس کا براہِ راست اثر جامعہ میں ریکٹر کی تقرری پر پڑ رہا ہے یونیورسٹی سٹاف ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ اولین ترجیح مستقل بنیادوں پر ریکٹر کی تعیناتی ہونی چاہیے، تاکہ تمام انتظامی و سروس معاملات یکسو ہو سکیں اور جامعہ کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ تاہم اگر موجودہ حالات میں فوری طور پر مستقل ریکٹر کی تعیناتی ممکن نہیں، تو اسوا اس متبادل حل پر زور دیتی ہے کہ صدرِ پاکستان، بحیثیت چانسلر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، اپنے آئینی و قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ریکٹر کے تمام اختیارات صدرِ جامعہ کو تفویض کریں۔

اسوا کے صدر کے مطابق موجودہ صدرِ جامعہ ڈاکٹر حافظ احمد سعد الاحمد ایک قابل، تجربہ کار اور مخلص منتظم ہیں، جو ادارے کے نظام، ضوابط اور مسائل سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کو ریکٹر کے اختیارات دینے سے بی او جی کے اجلاس، ڈی پی سی کے فیصلے اور دیگر انتظامی امور بحال ہو سکتے ہیں اور جامعہ کو درپیش انتظامی تعطل ختم کیا جا سکتا ہے اسوا کی تنظیم نے واضح کیا ہے کہ اگر فوری اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات صرف ملازمین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ جامعہ کے تعلیمی، انتظامی اور ادارہ جاتی مفادات کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جامعہ اور اس کے ملازمین کے وسیع تر مفاد میں جلد از جلد فیصلہ کیا جائے.