اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر پاکستان ریلوے کی 78 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام شعبوں میں بیک وقت ترقی کا عمل جاری ہے۔ پاکستان ریلوے کی مکمل ڈیجیٹائزیشن، آؤٹ سورسنگ، نئے ٹریکس کی تعمیر اور مسافر سہولیات کی بہتری پر عملی کام شروع کر دیا گیا ہے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے کراچی سے روہڑی کے درمیان 480 کلومیٹر نئے ریلوے ٹریک کی تعمیر کے لیے 2 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری دے دی ہے، جس سے سفر کے دورانیے میں کم از کم 5 گھنٹے کی کمی آئے گی۔ کراچی–روہڑی منصوبے کی گراؤنڈ بریکنگ جولائی 2026 میں متوقع ہے جبکہ اس منصوبے کو ڈھائی سے تین سال میں مکمل کیا جائے گا۔

حنیف عباسی نے بتایا کہ ریکوڈک منصوبے کے تحت روہڑی سے نوکنڈی تک 900 کلومیٹر ریلوے ٹریک پر کام کیا جا رہا ہے، جس میں 500 کلومیٹر نیا ٹریک تعمیر اور 400 کلومیٹر ٹریک اپ لفٹ کیا جائے گا۔ نوکنڈی سے تافتان تک 87 کلومیٹر ٹریک کو بھی منصوبے میں شامل کیا گیا ہے تاکہ ایران کے ساتھ ریلوے رابطہ مزید بہتر بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 54 کلومیٹر پیپلز ٹرین روٹ کا آغاز 4 ارب روپے کی لاگت سے کیا جا رہا ہے، جبکہ پنجاب میں 8 ریجنل روٹس قائم کیے جائیں گے۔ سندھ اور پنجاب کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کو بھی نئے ریلوے منصوبوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پہلی مرتبہ صوبوں کو برانچ لائنز آپریٹ کرنے کی پیشکش کی گئی ہے، جس پر پنجاب، سندھ اور بلوچستان نے فنڈز مختص کر دیے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا حکومت سے مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قازقستان، ازبکستان اور ایران کے ساتھ ریلوے کنیکٹیوٹی پر پیشرفت ہو رہی ہے اور اسلام آباد–تہران–استنبول ریلوے سروس سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد شروع کی جائے گی حنیف عباسی نے بتایا کہ راولپنڈی ریلوے اسٹیشن کی صفائی اور بہتری مکمل کر لی گئی ہے، تین پرائم ٹرینز اپ گریڈ ہو چکی ہیں جبکہ مزید ٹرینز 30 جون تک مکمل کی جائیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 31 دسمبر تک تمام بڑی ٹرینوں کو اپ گریڈ کر دیا جائے گا، جن میں سیکیورٹی کیمرے، وائی فائی، ہوسٹس اور جدید ڈائننگ کارز شامل ہوں گی۔ اسٹیشنز پر وائی فائی راؤٹرز نصب کر دیے گئے ہیں جبکہ رابطہ ایپ کے ذریعے ٹکٹ بکنگ کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 1700 کلومیٹر کے فاصلے پر فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھایا جا رہا ہے، کراچی اور لاہور ریلوے اسٹیشنز کو سیف اینڈ سیکیور بنایا جا رہا ہے اور ایم ٹیگ کی طرز پر ٹرینوں پر اسٹیکرز بھی لگائے جائیں گے۔ ایف ڈبلیو او کے ساتھ 8.9 ارب روپے کے ڈیجیٹل سسٹم معاہدے اور ڈی پی ورلڈ کے ساتھ پپری یارڈ پر 85 ملین ڈالر کے منصوبے پر پیشرفت جاری ہے انہوں نے بتایا کہ 155 ریلوے اسٹیشنز کو سولر انرجی پر منتقل کر دیا گیا ہے ریلوے تاریخ کی سب سے زیادہ روزانہ آمدن 300 ملین روپے حاصل کی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خواہش اور فنڈز کی فراہمی سے لاہور–راولپنڈی نیا ٹریک منصوبہ مکمل ہونے کے بعد سفر کا دورانیہ ڈھائی گھنٹے رہ جائے گا۔
اسکے علاوہ، پاکستان ریلوے نے جون 2026 تک ایک کھرب روپے آمدن حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے اور وزیراعظم کی قیادت میں ریلوے کو ایک جدید، محفوظ اور منافع بخش ادارہ بنایا جائے گا وفاقی وزیر نے کہا کہ ریلوے کے تمام ملازمین کے حقوق محفوظ ہیں، ریلوے اسپتالوں اور اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ کی جا رہی ہے، تمام اسپتالوں کو اپ لفٹ کیا جائے گا اور ریلوے ملازمین کو ریلوے اسپتالوں میں مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔ عملے کی سہولت کے لیے 14 رننگ رومز کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے.

