وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی زیرِ صدارت راول جھیل کے پانی کے معیار پر اعلیٰ سطحی اجلاس

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈاکٹر مصدق ملک نے راول جھیل کے پانی کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی ،اجلاس میں سیکرٹری وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی محترمہ عائشہ موریانی، سیکرٹری وزارتِ آبی وسائل جناب سید علی مرتضیٰ، ڈائریکٹر جنرل ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA)، ڈائریکٹر جنرل راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (RDA)، منیجنگ ڈائریکٹر واسا (WASA)، اور متعلقہ وفاقی و صوبائی وزارتوں اور محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی.

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر کو راول جھیل میں شامل ہونے والے تین بڑے آبی نالوں, کورنگ، لیک ویو اور جناح, کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان میں سے بعض نالے قریبی رہائشی علاقوں سے خارج ہونے والے سیوریج کے باعث آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس آلودگی کے خاتمے کے لیے سملی روڈ، بری امام اور شادرہ کے مقامات پر تین سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (STPs) کی تنصیب کی منصوبہ بندی جاری ہے،ڈاکٹر مصدق ملک نے اس امر پر زور دیا کہ صاف اور محفوظ پینے کے پانی تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کو پانی کی فراہمی اور سیوریج کے نظام پر براہِ راست دائرہ اختیار حاصل نہیں، تاہم وزارت اس معاملے میں متعلقہ اداروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی تاکہ بروقت اور مؤثر اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔

وفاقی وزیر نے ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) اور واسا کو ہدایت کی کہ راول جھیل میں داخل ہونے والے اور جھیل سے خارج ہونے والے پانی کے مختلف مقامات پر جامع پانی کے معیار کے ٹیسٹ کیے جائیں، تاکہ آلودگی کے ذرائع، مقامات اور اس کی شدت کا درست تعین کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شواہد پر مبنی اقدامات ہی مؤثر اور پائیدار حل کی ضمانت فراہم کر سکتے ہیں،اس موقع پر ڈاکٹر مصدق ملک نے ایک اہم سوال اٹھایا، “ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا یہ وہ پانی ہے جو ہم اپنے بچوں کو پلانا چاہتے ہیں؟”

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے مابین بہتر اور مؤثر رابطہ وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب کے عمل کو تیز کیا جا سکے اور عوام کو جلد از جلد صاف پینے کا پانی فراہم کیا جا سکے.