پیپلز ٹرین سروس اور مشترکہ منصوبوں پر بلوچستان حکومت اور پاکستان ریلوے میں اتفاق، ایک ارب 40 کروڑ روپے جاری کرنے کا اعلان

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی کی زیر صدارت چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں حکومتِ بلوچستان اور پاکستان ریلویز کے درمیان پیپلز ٹرین سروس سمیت مشترکہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں دونوں فریقین نے عوامی مفاد کے منصوبوں پر اصولی اتفاق رائے کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے پیپلز ٹرین سروس کو پاکستان ریلویز اور حکومتِ بلوچستان کے باہمی اشتراک کا حسین امتزاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ بلوچستان میں سستی، محفوظ اور معیاری سفری سہولیات کی فراہمی میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلویز کی 78 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی سطح پر ڈیولوشن کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں بلوچستان نے عملی قیادت سنبھال کر ایک مثال قائم کی ہے وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان ریلویز کا صوبوں کے ساتھ اشتراک، وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد، ہم آہنگی اور اشتراکِ عمل کی مضبوط مثال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی ریلوے سروسز کے منصوبوں میں تینوں صوبوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم عملی قیادت بلوچستان نے سنبھالی، جو وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی مؤثر قیادت اور واضح وژن کا مظہر ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے سسٹم کی بحالی اور عوام کو سستی سفری سہولیات کی فراہمی حکومتِ بلوچستان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز ٹرین سروس منصوبے کے لیے ایک ارب 40 کروڑ روپے رواں ہفتے جاری کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سریاب تا کچلاک پیپلز ٹرین سروس کے بعد اس منصوبے کو مستونگ اور پشین تک توسیع دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومتِ بلوچستان ریلوے اسٹیشنز کی تعمیرِ نو اور انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لیے ضروری وسائل فراہم کرے گی تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آ سکیں۔

اجلاس کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان ریلویز اور حکومتِ بلوچستان کے مابین اشتراکِ عمل کو مزید مضبوط بنانے اور عوامی مفاد کے منصوبوں میں تیز رفتار پیش رفت کے عزم کا اعادہ کیا۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ بلوچستان اور وفاقی وزیر ریلوے نے ریلوے فٹ بال گراؤنڈ کا دورہ بھی کیا، جہاں مشترکہ ترقیاتی منصوبوں پر اتفاق رائے کیا گیا.