اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ): وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق مسعود ملک نے اٹلی کے دارالحکومت روم میں منعقد ہونے والے “آرکٹک سرکل روم فورم” میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ وہ 2 سے 5 مارچ 2026 تک اٹلی کے دورے پر ہیں وزیر مملکت نے فورم کے پلینری اجلاس میں “پاکستان کا نقطہ نظر: موسمیاتی تبدیلی اور قطبی خطے” کے عنوان سے قومی بیان دیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، سمندری سطح میں اضافے اور شدید موسمی حالات کے باعث پاکستان کو درپیش خطرات کو اجاگر کیا ، مصدق مسعود ملک نے “تھرڈ پول کے لیے سائنسی سفارتکاری” کے موضوع پر ہونے والے پینل مباحثے میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائنسی تعاون، موسمیاتی انصاف اور تحقیقاتی اداروں اور پالیسی سازوں کے درمیان مضبوط روابط کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پولر ڈائیلاگ اور اطالوی نیشنل ریسرچ کونسل (CNR) میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں بھی حصہ لیا۔

روم فورم کے موقع پر پاکستانی سفارت خانے نے مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ اہم ملاقاتوں کا بھی اہتمام کیا جن میں آرکٹک سرکل کے چیئرمین اور آئس لینڈ کے سابق صدر اولافور رگنار گریمسن، پولر ڈائیلاگ کی چیئر اور آئس لینڈ کی سابق وزیر اعظم کاترین جاکوبسڈوتیر، گرین لینڈ کی وزیر خارجہ ویوین موٹزفیلڈ، کینیڈا کی پارلیمانی سیکرٹری مونا فورٹیئر، ناروے کے وزارت خارجہ کے اسٹیٹ سیکرٹری ایونڈ واد پیٹرسن اور آرکٹک امور پر یورپی یونین کی سابق سفیر میری این کوننس شامل ہیں وزیر مملکت نے اٹلی کی وزیر برائے جامعات و تحقیق انا ماریا برنینی اور اطالوی ایجنسی برائے ترقیاتی تعاون کے ڈائریکٹر مارکو روسکونی سے بھی ملاقات کی ، دورے کے دوران انہیں اٹلی کی سب سے بڑی سرکاری جامعہ لا ساپینزا یونیورسٹی میں اعلیٰ سطحی علمی نشست میں مدعو کیا گیا جہاں انہوں نے پروفیسر جیوسیپے چیکارون اور پروفیسر روڈولفو نیگری کے ساتھ ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے تحقیقاتی سہولیات کا دورہ کیا اور پاکستان کے ساتھ تعلیمی و تحقیقی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

اپنے مختلف خطابات میں وزیر مملکت نے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے “ورچوئل گرین یونیورسٹی”، “کلائمیٹ رسک کیپیٹل فنڈ” اور “گرین انٹلیکچوئل پراپرٹی” جیسے اقدامات کی تجاویز بھی پیش کیں تاکہ نوجوان محققین اور موسمیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کو سہولت فراہم کی جا سکے مصدق مسعود ملک نے اطالوی نیشنل سینٹر فار ریسرچ میں صدر اینڈریا لینزی کی میزبانی میں ہونے والی نشست میں بھی شرکت کی اور اطالوی سائنسدانوں کے ساتھ حیاتیاتی تنوع، کرائیوسفیئر اسٹڈیز اور ماحولیاتی پائیداری کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا وزیر مملکت نے SkyTg24 ٹی وی کو انٹرویو بھی دیا جس میں انہوں نے موسمیاتی سفارتکاری پر پاکستان کا مؤقف بیان کیا اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

آرکٹک سرکل کے صدر اور چیئرپرسن نے پاکستان کی مؤثر شرکت کو سراہتے ہوئے پاکستان کو آئندہ آرکٹک سرکل اسمبلی میں بطور کلیدی مقرر شرکت کی خصوصی دعوت دی ہے، جو 8 سے 10 اکتوبر 2026 کو آئس لینڈ کے شہر ریکیاوک میں منعقد ہوگی۔ روم فورم میں پاکستان کی شرکت پہلی مرتبہ خصوصی دعوت پر ہوئی وزیر مملکت کی اس اہم سفارتی سرگرمیوں کا اہتمام اور رابطہ کاری پاکستانی سفارت خانے کے تھرڈ سیکرٹری شہنواز خان نے کی، جس کے ذریعے عالمی پالیسی سازوں، محققین، تعلیمی اداروں اور میڈیا کے سامنے پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔


