اسلام آباد (کامرس رپورٹر) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ 2026 حکومت کے لیے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے اور ملک کو اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا ایک تاریخی موقع فراہم کرتا ہے، جمعہ کو چیمبر ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بریفنگ کا مقصد تاجر برادری کی تجاویز اور توقعات کو پالیسی سازوں کے سامنے پیش کرنا ہے تاکہ کاروبار دوست، سرمایہ کاری اور ترقی پر مبنی بجٹ تشکیل دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی صورتحال بالخصوص مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نے سرمایہ کاری کی نئی حرکیات پیدا کی ہیں۔ اس منظر نامے میں، بہت سے سمندر پار پاکستانی سرمایہ کاری کے متبادل مقامات کی تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں کو راغب کرکے اس موقع سے فائدہ اٹھائے، سردار طاہر محمود نے کہا کہ جہاں تاجر برادری حکومت کے ان اقدامات کو سراہتی ہے کہ جن کا مقصد موٹر سائیکل سواروں کے لیے سبسڈی سمیت عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا ہے.
وہیں پیٹرولیم کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے سے عوام پر مالی بوجھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایندھن کی زیادہ قیمتوں سے نہ صرف کاروبار کرنے کی لاگت بڑھے گی بلکہ پوری معیشت میں مہنگائی بھی بڑھے گی۔ اس لیے انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ توانائی کی لاگت کو کم کرنے اور صنعت کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے، آئی سی سی آئی کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے پاکستان کی معیشت کے سب سے اہم ستونوں میں سے ہیں، کیونکہ یہ سیمنٹ، سٹیل، برقی سامان اور نقل و حمل سمیت متعدد صنعتوں سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس شعبے کی بحالی اور ترقی کو تیز کرنے کے لیے ایک شفاف، سادہ اور سرمایہ کار دوست پالیسی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے تعمیراتی صنعت کے لیے جلد پیکج کا اعلان کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ کاروباری برادری کو توقع ہے کہ یہ پیکج مکمل اور جامع ہوگا، جس سے پاکستان خاص طور پر جی سی سی ممالک کے سرمایہ کاروں کو راغب کر سکے گا، سردار طاہر محمود نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے خصوصی اقتصادی زونز کے قیام، مراعات اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے سیاحت کے فروغ، آئی ٹی برآمدات اور سٹارٹ اپس کے لیے آسانیاں بڑھانے اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے پاکستان کے وسیع معدنی وسائل کے موثر استعمال کی تجویز بھی پیش کی۔
انہوں نے مزید تجویز پیش کی کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے ون ونڈو سرمایہ کاری کی سہولت کا نظام بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے پالیسی میں تسلسل، آسان ٹیکس نظام اور کاروباری دوستانہ ضوابط ضروری ہیں، آئی سی سی آئی کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ کلیدی اقتصادی فیصلے یکطرفہ پالیسی سازی کے بجائے چیمبرز آف کامرس اور بزنس کمیونٹی کے نمائندوں کی مشاورت سے کیے جائیں کیونکہ اس طرح کے تعاون سے زیادہ عملی اور موثر اقتصادی پالیسیاں سامنے آئیں گی۔
آئی سی سی آئی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ چیمبر حکومت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا تاکہ کاروباری ترقی، سرمایہ کاری اور معاشی استحکام کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تاجر برادری کی تجاویز کو شامل کرکے بجٹ 2026 پاکستان کو معاشی استحکام حاصل کرنے اور خطے میں ایک مضبوط اقتصادی قوت کے طور پر ابھرنے میں مدد دے سکتا ہے، اس موقع پر سابق صدور زبیر احمد ملک، محمد اعجاز عباسی، ایگزیکٹو ممبران عمران منہاس، ذوالقرنین عباسی، نجیب الٰہی ملک، اسحاق سیال، مرزا محمد علی، راجہ نوید ستی، سابق ایس وی پی خالد چوہدری، سابق وی پی اشفاق چٹھہ، آئی سی سی آئی کے سینئر ممبران اسرار مشوانی، رانا محمد قیصر، تہماس بٹ، چوہدری محمد علی اور دیگر بھی موجود تھے ۔

