پی اے سی ذیلی کمیٹی کا نجکاری آڈٹ کیسز کا جائزہ، غیر قانونی منتقلی کی رقوم 7 دن میں واپس کرنے کی ہدایت

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وزارتِ نجکاری سے متعلق مالی سال 2011-12 سے 2022-23 تک کے آڈٹ اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں نجکاری کمیشن کی جانب سے پانچ اداروں کے شیئرز اپنے پاس رکھنے سے متعلق معاملہ زیر بحث آیا۔ آڈٹ حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ نجکاری کے بعد متعلقہ شیئرز فنانس ڈویژن کو منتقل کیے جانے تھے، تاہم یہ شیئرز کمیشن کے پاس ہی رہے۔ بعد ازاں حکام نے بتایا کہ یہ شیئرز متعلقہ اداروں کو جمع کرا دیے گئے ہیں۔

اس موقع پر آڈٹ حکام نے او جی ڈی سی ایل (OGDCL) کی اسٹیٹس پر بھی وضاحت طلب کی، جس پر کہا گیا کہ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر اس حوالے سے تفصیل فراہم کریں گے، کنوینر سید نوید قمر نے سوال اٹھایا کہ شیئرز نجکاری کمیشن میں کیوں رکھے گئے اور اس تاخیر کی وجوہات کیا تھیں۔ بعد ازاں کمیٹی نے ٹرانسفر ہونے والے شیئرز سے متعلق آڈٹ اعتراض نمٹا دیا۔

ایک اور معاملے میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ نجکاری کمیشن کی جانب سے ٹرسٹ فنڈ کو خلاف ضابطہ طور پر پی سی فنڈ اکاؤنٹ میں منتقل کیا گیا، جس پر کمیٹی میں سخت سوالات اٹھائے گئے۔

سید نوید قمر نے استفسار کیا کہ رقوم کی واپسی کتنے عرصے میں ممکن ہے اور واضح ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یہ رقم 7 ورکنگ دنوں کے اندر حکومتِ پاکستان کو واپس کی جائے، انہوں نے کہا کہ اگر رقوم مقررہ مدت میں واپس کر دی جائیں تو آڈٹ اعتراض نمٹا دیا جائے گا، بصورت دیگر معاملہ مزید کارروائی کے لیے زیر غور رکھا جائے گا۔