ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انقرہ پہنچ گئے، اردوان سے دفاع اور علاقائی امور پر بات چیت

انقرہ (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو کے 36ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے، جہاں ترک صدر رجب طیب اردوان نے ہوائی اڈے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا، اجلاس میں نیٹو کے مستقبل، یورپی سلامتی، رکن ممالک کے دفاعی اخراجات اور علاقائی سلامتی سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

انقرہ میں صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ صدر اردوان ان کے قریبی دوست ہیں اور امریکا و ترکیہ کے تعلقات انتہائی مضبوط ہیں، صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ ایک مضبوط اور بااثر ملک بن چکا ہے، تاہم دنیا کے بہت سے لوگ اب بھی ترکیہ کی حقیقی فوجی صلاحیت سے پوری طرح واقف نہیں۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی صدر اردوان کے ساتھ تجارت، دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون، ایران کی صورتحال اور دیگر اہم علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ ترکیہ بھی یہی چاہتا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔

نیٹو کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ اتحاد کی کارکردگی سے مایوس ہیں اور درحقیقت اجلاس میں شرکت کا ارادہ نہیں رکھتے تھے، تاہم چونکہ اس کی میزبانی ترکیہ کر رہا ہے، اس لیے انہوں نے شرکت کا فیصلہ کیا، انہوں نے کہا کہ امریکا نیٹو پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے تاکہ اتحادی مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیں، لیکن جب امریکا کو ضرورت پڑی تو اسے مطلوبہ تعاون حاصل نہیں ہوا۔

ایران کے خلاف امریکی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس آپریشن میں امریکا کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت پیش نہیں آئی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ہمیشہ یورپ کو روس سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ بعض اتحادی صرف جنگ کے خاتمے کے بعد تعاون کی بات کرتے رہے۔

ترکیہ کے دفاعی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایف-35 لڑاکا طیاروں سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے، انہوں نے واضح کیا کہ انہیں ترکیہ کو ایف-35 طیاروں کی فراہمی پر کوئی تشویش نہیں، جبکہ روسی طیاروں کی خریداری پر بھی انہیں اعتراض نہیں کیونکہ ہر خودمختار ملک اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرنے کا حق رکھتا ہے۔

روس اور یوکرین جنگ کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یوکرین تنازع کے حل میں پیش رفت ہوگی اور جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچے گی، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگر ترکیہ چاہتا تو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہو سکتا تھا، تاہم ان کے بقول ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے شام کے صدر احمد الشرع کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہتر انداز میں کام کر رہے ہیں اور ایک تقسیم شدہ ملک کو دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اپنے دوست ممالک پر پابندیاں عائد نہیں کرنا چاہتا اور خطے کے مسائل کا حل تعاون، سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے نکالنے کو ترجیح دیتا ہے، واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انقرہ آمد پر ایتیمس گوت ایئر بیس پر خصوصی استقبالی تقریب منعقد کی گئی۔

ترک روایات کے مطابق سرخ قالین کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین بچھایا گیا، جو ترکیہ کی ثقافتی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ ترک اعزازی گارڈ نے امریکی صدر کو سلامی پیش کی، صدر رجب طیب اردوان نے خود ہوائی اڈے پر موجود رہ کر اپنے مہمان کا استقبال کیا، جسے دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔