پیٹرولیم قیمتوں کی ڈی ریگولیشن مسترد، پیٹرول ڈیلرز کی ملک گیر ہڑتال کی وارننگ

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے حکومت کی مجوزہ پٹرولیم پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس فیصلے پر نظرثانی نہ کی گئی تو آئندہ ہفتے ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کے آپشن پر غور کیا جائے گا۔

پی پی ڈی اے کے سینیئر وائس چیئرمین چوہدری عرفان الٰہی نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت مجوزہ پالیسی پر فوری نظرثانی کرے اور پٹرول پمپ مالکان پر اضافی مالی اور انتظامی بوجھ ڈالنے سے گریز کرے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت نئی پالیسی کے حوالے سے پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کو اعتماد میں لے اور واضح کرے کہ مجوزہ ڈی ریگولیشن کا طریقہ کار اور اس کا عملی میکانزم کیا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین سے قبل آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز)، ڈیلرز اور دیگر تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور اتفاق رائے ناگزیر ہے، ان کے مطابق یکطرفہ فیصلے نہ صرف پٹرول پمپ مالکان بلکہ پورے پٹرولیم سیکٹر کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔

چوہدری عرفان الٰہی کا کہنا تھا کہ ملک بھر کے تقریباً 15 ہزار پٹرول پمپ مالکان مجوزہ پالیسی پر شدید تحفظات رکھتے ہیں، ان کے بقول نئی پالیسی سے قیمتوں کے موجودہ نظام میں نمایاں تبدیلی آئے گی، جس کے کاروباری اور انتظامی اثرات پورے شعبے پر مرتب ہوں گے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ یکطرفہ فیصلوں سے گریز کرتے ہوئے پٹرول پمپ مالکان اور ان کی نمائندہ تنظیم کے ساتھ بامعنی مشاورت کرے تاکہ ایسا متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جا سکے جو حکومت، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ڈیلرز اور صارفین سمیت تمام متعلقہ فریقین کے مفاد میں ہو۔

پی پی ڈی اے کے سینیئر وائس چیئرمین نے واضح کیا کہ اگر ڈیلرز کے تحفظات دور نہ کیے گئے اور حکومت نے اپنے فیصلے پر نظرثانی نہ کی تو آئندہ ہفتے احتجاجی تحریک اور ممکنہ ملک گیر ہڑتال کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔