حکومت اور پیٹرول پمپ مالکان کے مذاکرات ناکام، ملک گیر ہڑتال کا اعلان

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) حکومت اور آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے یومیہ تعین کے نظام پر ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے، جس کے بعد ایسوسی ایشن نے ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے وفد کے درمیان تقریباً ایک گھنٹے تک مذاکرات جاری رہے۔ اجلاس میں ایسوسی ایشن کے چیئرمین ہمایوں خان، وائس چیئرمین نعمان علی بٹ اور دیگر صوبائی عہدیدار شریک ہوئے، تاہم فریقین کسی اتفاق رائے پر نہ پہنچ سکے۔

مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وائس چیئرمین نعمان علی بٹ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر رد و بدل کا نظام ڈیلرز کے لیے قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیادوں پر ہونا چاہیے، جبکہ ڈیلرز کے کمیشن کے مسئلے کو بھی فوری حل کیا جائے۔

چیئرمین ہمایوں خان نے کہا کہ ڈیلرز پہلے ہی شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں، ایک طرف اوگرا اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) ہیں اور دوسری جانب حکومتی پالیسیوں کا دباؤ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ قیمتوں کا نظام “آدھا تیتر آدھا بٹیر” کی کیفیت پیدا کر دے گا اور اس سے کاروبار متاثر ہوگا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت پالیسی سازی کے دوران اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کرتی اور کاروباری طبقے کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔

ہمایوں خان نے اعلان کیا کہ آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن آج رات 12 بجے سے ملک گیر ہڑتال شروع کرے گی، جبکہ جمعرات سے ملک بھر کے تقریباً 15 ہزار پیٹرول پمپ شٹر ڈاؤن کر دیے جائیں گے۔

ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یومیہ قیمتوں کے نظام پر نظرثانی، ڈیلرز کے کمیشن میں اضافہ اور پالیسی سازی میں پیٹرول پمپ مالکان کو شامل کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

دوسری جانب مذاکرات کی ناکامی اور ہڑتال کے اعلان پر وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اگر ہڑتال پر عملدرآمد ہوتا ہے تو ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔