سندھ محکمہ خوراک میں اربوں روپے کی گندم خوردبرد، 8 افسران برطرف، 5.12 ارب روپے ریکوری کا حکم

کراچی (بیورو رپورٹ) محکمہ خوراک سندھ میں گندم خوردبرد کے معاملے پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے 8 افسران اور اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا، صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے برطرف افسران سے مجموعی طور پر 5 ارب 12 کروڑ 84 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری کا حکم بھی جاری کر دیا .

صوبائی وزیر کے مطابق خیرپور کے فوڈ انسپکٹر ظہیر عباس شر کو برطرف کرتے ہوئے ان سے 2 ارب 8 کروڑ 82 لاکھ روپے سے زائد، جبکہ سانگھڑ کے فوڈ انسپکٹر محمد عباس میمن سے ایک ارب 5 کروڑ 56 لاکھ روپے سے زائد کی وصولی کا حکم دیا گیا ہے۔

اسی طرح شکارپور کے فوڈ سپروائزر محمد مٹھل مگسی کو برطرف کرکے ان سے 84 کروڑ 91 لاکھ روپے سے زائد، جبکہ دادو کے فوڈ سپروائزر محمد حسن دل سے 70 کروڑ 4 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری کی جائے گی ، کارروائی کے تحت فوڈ انسپکٹر عمران علی مگسی، فوڈ سپروائزر قربان علی مگسی، سابق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر محمد منور آرائیں اور غلام مصطفیٰ میرانی کو بھی ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔

مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ برطرف افسران کے خلاف مقدمات اینٹی کرپشن سندھ کو بھیج دیے گئے ہیں، جبکہ ریکوری کے ساتھ سول کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی ، انہوں نے واضح کیا کہ بدعنوانی میں ملوث افسران و اہلکاروں کے لیے محکمہ خوراک میں کوئی جگہ نہیں اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والوں سے ایک ایک پائی وصول کی جائے گی۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ گندم مراکز کی فزیکل ویریفکیشن اور ریکارڈ کی جانچ کے عمل کو مزید سخت بنایا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی بے ضابطگیوں کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔