لاہور ہائیکورٹ نے ملتان کی دو یونین کونسلز کی حلقہ بندی کا نوٹیفکیشن روک دیا

لاہور (بیورو رپورٹ) پنجاب میں بلدیاتی الیکشن بارے لاہور ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ جاری کر دیا ، لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن سے متعلق دوحلقوں کی حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا ، جسٹس جواد حسن نے قرار دیا کہ حلقہ بندی ووٹ کے حق کے تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کے مطابق ہونی چاہیےحلقہ بندی محض نقشے پر حدود کھینچنے کا عمل نہیں بلکہ اس کا مقصد ووٹ کے حق کو تحفظ دینا ہے۔

لاہورہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے محمد ندیم کی درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا، درخواست گزار نے 29 جولائی 2026 کو ریجنل الیکشن کمشنر / ڈیلیمیٹیشن اتھارٹی ملتان کی جانب سے جاری حکم کو چیلنج کیا تھا ، درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یونین کونسلز نمبر 3 اور 4 کی ابتدائی حلقہ بندی 25 مئی 2026 کو شائع ہوئی جبکہ قانون کے تحت اعتراضات دائر کرنے کے لیے 15 دن کی مہلت تھی جو 9 جون کو ختم ہوگئی۔

وکیل کے مطابق فریق نمبر 7 نے 17 جون کو اعتراضات دائر کیے، جنہیں ڈیلمیٹٰشن اتھارٹی نے منظوتر کرکےحلقہ بندی تبدیل کی جوغیر قانونی ہے لہٰذا عدالت فیصلے کو کالعدم قرار دے ، دوران سماعت اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے درخواست کی قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا، جسٹس جواد حسن نے فیصلے میں لکھا کہ حلقہ بندی ووٹ کے حق کے تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کے مطابق ہونی چاہئے۔

فیصلے کے مطابق حلقہ بندی محض نقشے پر حدود کھینچنے کا عمل نہیں بلکہ اس کا مقصد ووٹ کے حق کو تحفظ دینا ہے، ووٹ کی قدر میں عدم مساوات یا سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں حلقہ بندی سے گریز کرنا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حلقہ بندی میں آبادی، جغرافیائی یکجائی، انتظامی حدود، ذرائع مواصلات، عوامی سہولت اور علاقے کے باہمی مفادات جیسے عوامل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے ،فیصلے کے مطابق حلقہ بندی ایک غیر جانب دارانہ عمل ہونا چاہیے اور کسی سیاسی جماعت یا فریق کے مفاد میں حلقہ بندی کرنا انتخابی عمل کی شفافیت کو متاثر کرسکتا ہے۔

عدالت نے ملتان کی یونین کونسلز نمبر 3 اور 4، حلقہ بندی کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا۔ اور 25 اگست کو الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی۔