لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کی معروف اداکارہ اور میزبان سعدیہ امام نے انکشاف کیا ہے کہ شوبز انڈسٹری میں اپنے کیریئر کے دوران مجھے کئی مرتبہ قریبی مرد ساتھیوں اور دوستوں کی جانب سے دھوکا دینے اور نظر انداز کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا ، سعدیہ امام نے یہ انکشاف نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں گفتگو کے دوران کیا۔
اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے سعدیہ امام نے کہا کہ جب میں نے شوبز انڈسٹری میں قدم رکھا تو اس وقت خواتین اداکاراؤں کی تعداد بہت کم تھی، انڈسٹری میں زیادہ تر یا تو بہت سینئر اداکارائیں تھیں یا پھر بالکل نئی اور جونیئر اداکارائیں، جبکہ میری ہم عمر اور ہم پلہ خواتین فنکار بہت کم تھیں۔
سعدیہ امام نے بتایا کہ اس وقت میرے زیادہ تر ساتھی مرد تھے اور مجھے انہی میں سے بعض قریبی دوستوں کی جانب سے دھوکا ملا، چند مواقع پر ساتھیوں نے مجھے پیٹھ پیچھے نقصان پہنچایا اور میرے خلاف باتیں کیں ، اداکارہ نے بتایا کہ میرے والد مجھے ہمیشہ مشورہ دیتے تھے کہ جعلی دوست رکھنے سے بہتر ہے کہ انسان اکیلا رہے، تاہم اس وقت مجھے والد کی بات سمجھ نہیں آتی تھی کیونکہ مجھے لوگوں کی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔
سعدیہ کے مطابق وقت کے ساتھ میں نے ان تجربات سے بہت کچھ سیکھا اور اللّٰہ کے فضل سے وہ مشکل وقت گزر گیا ، سعدیہ امام نے انکشاف کیا کہ کئی مرتبہ میں نے اپنے مرد ساتھیوں کو مجھ سے متعلق بات کرتے ہوئے خود سنا، بعض لوگ کہتے تھے کہ سعدیہ امام کو کاسٹ نہ کیا جائے کیونکہ وہ پارٹی گرل نہیں ہیں اور شوٹنگ کے دوران زیادہ گھلتی ملتی نہیں۔
اداکارہ نے بتایا کہ اس زمانے میں ڈراموں کی شوٹنگ کے لیے بیرونِ ملک بھی جانا ہوتا تھا اور بعض ساتھیوں کو میرے رویے اور طرزِ زندگی سے مسئلہ تھا، کچھ لوگ ایسی لڑکیوں کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے جو ان کے ساتھ زیادہ دوستانہ ہوں، اسی وجہ سے مجھے بعض منصوبوں سے نکال دیا جاتا یا پھر دوسرے درجے کے کردار دیے جاتے تھے۔
سعدیہ امام نے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ دکھ ان لوگوں کے رویے سے ہوا جو میرے انتہائی قریبی ساتھی تھے، میرے گھر آتے جاتے، ساتھ کھانا کھاتے اور وقت گزارتے تھے، لیکن پسِ پردہ میرے خلاف باتیں کرتے رہے۔

