اسلام آباد (احسان بخاری/ سپیشل رپورٹر) فیض آباد سے کورال تک سروس روڈ کے اربوں روپے کے منصوبے پر کام شروع ہوتے ہی علاقے میں بھاری واٹر ٹینکروں کی مسلسل آمدورفت اور غیر قانونی کمرشل ٹیوب ویلز نے شہریوں کے خدشات میں اضافہ کردیا ہے ، شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو نئی تعمیر ہونے والی سڑک کی پائیداری کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین پانی کے ذخائر بھی شدید متاثر ہوسکتے ہیں۔
ذرائع اور علاقہ مکینوں کے مطابق کھنہ پل سے کورال تک دن رات بھاری واٹر ٹینکروں کی آمدورفت جاری ہے، شہریوں کو خدشہ ہے کہ اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی سڑک پر مسلسل بھاری ٹریفک اس کی پائیداری کو متاثر کرسکتی ہے اور چند ماہ بعد ہی سڑک دوبارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوسکتی ہے۔
علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض مقامات پر کمرشل بنیادوں پر پانی فراہم کرنے کے لیے مبینہ طور پر غیر قانونی ٹیوب ویلز کے ذریعے زیرِ زمین پانی بڑے پیمانے پر نکالا جا رہا ہے, شہریوں کے مطابق اس صورتحال کے باعث متعدد آبادیوں میں گھریلو پانی کے بور خشک ہونے اور پانی کی سطح مزید نیچے جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ علاقے سے زیرِ زمین پانی نکال کر واٹر ٹینکروں کے ذریعے انہی شہریوں کو مہنگے داموں فروخت کیے جانے کا مبینہ کاروبار جاری ہے۔ پانی کی قلت کا شکار شہریوں سے ایک ٹینکر کے ہزاروں روپے وصول کیے جانے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔
شہریوں نے کہا ہے کہ ایک طرف عوام کو پانی کی قلت کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب مبینہ غیر قانونی ٹیوب ویلز کے ذریعے قیمتی زیرِ زمین پانی کا بے دریغ استعمال جاری ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ غیر قانونی ٹیوب ویلز کی فوری نشاندہی کرکے انہیں سیل کیا جائے اور کمرشل بنیادوں پر پانی فراہم کرنے والے ٹینکروں کی قانونی حیثیت اور اجازت ناموں کی مکمل جانچ کی جائے۔
شہریوں نے سی ڈی اے، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلام آباد ایکسپریس وے منصوبے کو محفوظ بنانے کے لیے بھاری ٹینکروں کی آمدورفت کو ضابطے میں لایا جائے اور غیر قانونی واٹر سپلائی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب غیر قانونی ٹیوب ویلز کے معاملے پر اے بی این کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر نیلور سیف الاسلام سے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کی جانب سے مؤقف دینے سے گریز کیا گیا۔ ماضی قریب میں اسسٹنٹ کمشنر نیلور سیف الاسلام کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کا کام لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال دیکھنا ہے جبکہ کمرشل بنیادوں پر پانی فروخت کرنے والے ٹیوب ویلز سے متعلق معلومات سی ڈی اے سے حاصل کی جائیں۔
سیف الاسلام کے مطابق ٹیلی فون پر مؤقف یا معلومات فراہم کرنے کا طریقہ انہیں مناسب نہیں لگا ، شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیں، غیر قانونی ٹیوب ویلز بند کیے جائیں، ٹینکر مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے اور علاقے میں پانی کے استعمال اور فراہمی کے حوالے سے شفاف واٹر مینجمنٹ پالیسی متعارف کرائی جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایک طرف اربوں روپے کا قومی سرمایہ خطرے میں پڑ سکتا ہے جبکہ دوسری جانب زیرِ زمین پانی کے ذخائر متاثر ہونے سے مستقبل میں پانی کا بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

