واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کا رواں ہفتے ماسکو کا اچانک دورہ روس کو نیٹو ممالک پر حملہ نہ کرنے کے انتباہ کے لیے تھا۔
رپورٹ کے مطابق جان ریٹکلف کا روسی دارالحکومت کا یہ پہلا اعلانیہ دورہ تھا۔ یہ دورہ امریکی انٹیلی جنس کے ان نئے جائزوں کے بعد کیا گیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن آئندہ چند برسوں میں کسی اتحادی ملک پر محدود حملے کے ذریعے نیٹو کے عزم کو آزمانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ یوکرین میں دباؤ اور اندرونِ ملک مسائل کا سامنا کرنے والے پیوٹن کوئی نیا محاذ کھول سکتے ہیں، جس میں سائبر حملوں سے لے کر محدود پیمانے پر زمینی دراندازی تک کے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بدھ کو ماسکو میں صحافیوں کو بتایا کہ جان ریٹکلف نے روسی دارالحکومت میں قیام کے دوران روسی انٹیلی جنس حکام سے بات چیت کی، تاہم ان کی صدر ولادیمیر پیوٹن سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ،پیسکوف کے مطابق صدر پیوٹن کو ان مذاکرات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی تھی۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو کے حوالے سے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو قدامت پسند ریڈیو میزبان گلین بیک کو دیے گئے انٹرویو میں اس دورے کو کسی حد تک معمول کی کارروائی قرار دیتے ہوئے گفتگو کا رخ روس یوکرین جنگ کی جانب موڑ دیا ،وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے صحافیوں کو صدر ٹرمپ کے بیان کا حوالہ دیا، جبکہ سی آئی اے کی ترجمان نے جان ریٹکلف کے دورہ ماسکو پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

