لیپزگ ائیرپورٹ ڈرون معاملہ، جرمنی کے الزامات روس کے خلاف حقیقی جنگ کی جانب پیش رفت ہیں. لاوروف

ماسکو (ویب ڈیسک) روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جرمنی کے لیپزگ ائیرپورٹ پر مبینہ ڈرون حملے کی کوشش کے معاملے پر جرمنی کے الزامات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے روس کے خلاف حقیقی جنگ کی جانب پیش رفت قرار دیا ہے ، روسی خبر ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں سرگئی لاوروف نے کہا کہ مبینہ ڈرون کے بارے میں یہ معلوم کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی کہ اسے کس نے بھیجا تھا۔

ان کے بقول جرمنی کی جانب سے براہ راست روس کو ذمہ دار ٹھہرانا انتہائی سنگین معاملہ ہے ، روسی وزیر خارجہ نے بون میں روسی قونصل خانے اور برلن میں روسی ہاؤس بند کرنے کے جرمن فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں اس طرح کے اقدامات پہلے بھی دیکھے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری عالمی جنگ سے قبل بھی جرمنی نے روسی سفارتی مشنز کی بندش جیسے اقدامات کیے تھے۔

لاوروف نے جرمنی کی موجودہ پالیسی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ جرمنی ایک مرتبہ پھر جنگ کی طرف بڑھنا چاہتا ہے ، انہوں نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے اس بیان پر بھی تشویش کا اظہار کیا جس میں یورپ کی مضبوط ترین فوج تشکیل دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا، لاوروف نے اسے ایک خطرناک رجحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ روسی قیادت اس صورتحال سے متعلق مناسب نتائج اخذ کرے گی۔

واضح رہے کہ 4 اگست کو جرمنی کے لیپزگ ائیرپورٹ کے سکیورٹی زون میں ایک ڈرون ملنے کی اطلاع سامنے آئی تھی، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اس پر مبینہ طور پر دھماکا خیز مواد نصب تھا، یہ ڈرون ایک ایسے یوکرینی کارگو طیارے کے قریب پایا گیا تھا جو یوکرین کے لیے فوجی سامان کی ترسیل سے منسلک بتایا گیا۔

بعد ازاں یکم ستمبر کو جرمنی نے مبینہ ناکام ڈرون حملے کا ذمہ دار روس کو قرار دیتے ہوئے ماسکو کے خلاف متعدد اقدامات کا اعلان کیا، ان اقدامات میں بون میں روسی قونصل خانے اور برلن میں روسی ثقافتی مرکز کی بندش بھی شامل تھی، جبکہ جرمنی میں تعینات روسی عملے اور ان کے اہل خانہ کو بھی جلد روس واپس جانے کی ہدایت کی گئی۔