اسلام آباد(سٹی رپورٹر) آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماءغلام محمد صفی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے جاری وسیع پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیوں، گھر گھر تلاشیوں، رات گئے محاصروں اور چادر و چار دیواری کی بے حرمتی کے مسلسل واقعات کو انتہائی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں نہ صرف کشمیری عوام کو خوف اور دہشت میں مبتلا کرنے کی کھلی کوشش ہیں بلکہ عالمی انسانی حقوق، جنیوا کنونشنز اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی واضح خلاف ورزی بھی ہیں، پچھلے کئی دنوں سے وادی کے مختلف علاقوں میں بھارتی فورسز جس بے رحمی، جارحیت اور منظم طریقے سے محاصرے اور چھاپہ مار کارروائیاں انجام دے رہی ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کشمیریوں کو اجتماعی سزا دینے، ان کے حوصلے پست کرنے اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو کمزور کرنے کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈہ استعمال کر رہا ہے۔ گھروں کے دروازے توڑے جا رہے ہیں، خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بزرگ شہریوں کی تذلیل کی جا رہی ہے، نوجوانوں کو بلاجواز گرفتار کیا جا رہا ہے ، اور بستیوں کو مکمل فوجی محاصروں میں جکڑ کر عوام کو ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا کیا جا رہا ہے.
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماؤں محمد فاروق رحمانی، محمد الطاف حسین وانی،پرویز شاہ ایڈووکیٹ زاہد صفی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےغلام محمد صفی کا مزید کہنا تھا کہ بھارت دنیا کو یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کر رہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں امن ہے، مگر یہ چھاپے، یہ مسلسل عسکری کریک ڈاؤن اور یہ وحشیانہ محاصرے دنیا کو یہ حقیقت بتا رہے ہیں کہ کشمیر ایک ایسی محصور وادی بن چکی ہے جسے دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کا یہ جھوٹا بیانیہ کہ آرٹیکل 370 اور 35A کے خاتمے کے بعد کشمیر میں امن قائم ہو گیا ہے، بری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ اگر واقعی امن قائم ہوتا تو لاکھوں کی تعداد میں فوجی تعینات کرنے، روزانہ گھروں پر چھاپے مارنے، نوجوانوں کو اٹھانے اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ کشمیر میں آج بھی عوام کی زندگی اس قدر اجیرن بنا دی گئی ہے کہ بنیادی انسانی، مذہبی اور سیاسی حقوق تک سلب کر لیے گئے ہیںحریت رہنماؤں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کو نوشتۂ دیوار پڑھ لینا چاہیے۔ گزشتہ 78 برسوں میں بھارت نے طاقت کے تمام ہتھیار استعمال کر لیے دس سے بارہ لاکھ فوج، قتل عام ، جابرانہ قوانین، محاصرے، گرفتاریاں، تشدد، اقتصادی دباؤ مگر اس کے باوجود وہ کشمیریوں کے عزم، استقلال اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو نہیں جھکا سکا اور نہ جھکا سکے گا، بھارتی ریاست نے جب سے کشمیر پر قبضہ کیا ہے تب سے کشمیریوں کو جھکانے کے لیے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے مگر کشمیریوں نے کبھی غلامی قبول نہیں کی اور نہ آئندہ کریں گے۔ کشمیری عوام پر ہر دور میں جبر آزمایا گیا، مگر ان کی جدوجہد آج بھی اتنی ہی توانا ہے جتنی پہلے دن تھی۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤںنے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، اور تمام انصاف پسند قوتوں سے پُرزور اپیل کی کہ وہ بھارتی قابض افواج کی بڑھتی ہوئی درندگی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا بھرپور نوٹس لیتے ہوئے بھارت پر عملی دباؤ ڈالیں کہ وہ کشمیریوں پر ظلم و ستم کا یہ سلسلہ بند کرے، عالمی فورمز کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت سے جواب طلب کریں کہ وہ چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی کیوں کر رہا ہے، کیوں نوجوانوں کو غائب کیا جا رہا ہے، کیوں پوری آبادی کو مسلسل محاصروں میں رکھا جا رہا ہے، اور کیوں کشمیریوں کا بنیادی حق—حقِ خودارادیت—پورا نہیں کیا جا رہا جس کا وعدہ خود بھارت نے دنیا کے سامنے کیا تھا، کشمیر آج بھی ایک فوجی قید خانہ ہے، مگر اس قید اور جبر کے باوجود کشمیریوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، کشمیریوں کی جدوجہد کسی طاقت کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ اپنے ناقابلِ تنسیخ، عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ہے، اور دنیا کی کوئی طاقت اس جائز، اصولی اور تاریخی جدوجہد کو ختم نہیں کر سکتی۔ کشمیر کے لوگ آج بھی اسی پختہ یقین کے ساتھ کھڑے ہیں کہ آزادی ان کا مقدر ہے اور وہ ایک دن ضرور حاصل ہو کر رہے گی۔

