راولپنڈی(سپیشل رپورٹر) و فاقی دارلحکومت سمیت راولپنڈی میں کال سینٹرز میں شہریوں اور ملازمین کو لوٹنے والے کال سنٹر مافیا کو تھانہ چکلالہ راولپنڈی کے علاقہ میں خود کو آئی ایس آئی اور پاک فوج کے اعلیٰ افسران ظاہر کرکے چائنیز شہریوں سے بھاری بھتہ وصول کرنے والے گروہ کے خلاف پنڈی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ایک ہفتہ سے زائد کا وقت گزرنے کے باوجود پولیس گینگ کو پکڑ نے میں ناکام مقدمہ ٹیکسلا کی رہائشی اریبہ رباب کی مدعیت میں درج ہوا، پولیس کو بتایا کہ ملزمان نے جعلی بریگیڈیئر اور کرنل بن کر ان کے چائنیز کال سینٹر کے عملے سے مجموعی طور پر 80 لاکھ روپے وصول کیے۔
اریبہ کے مطابق وہ اور ان کے شوہر—چائنیز نیشنل گاؤ کیزان—بحریہ ٹاؤن فیز 8 میں ایک چائنیز کال سینٹر میں ملازمت کرتے تھے جہاں سے بھتہ خوری کا سلسلہ شروع ہوا۔مدعیہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ پہلے مرحلے میں فواد احمد نامی شخص چند لوگوں کے ہمراہ ان کے کال سینٹر میں آیا اور خود کو بااثر اداروں کا نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے 20 لاکھ روپے بلیک میلنگ کے ذریعے وصول کیے۔ بعد ازاں وہ دوبارہ چھاپہ مار کر پہنچا اور کہا کہ وہ انہیں اپنے باس سے ملوائے گا جو پاکستان آرمی میں بریگیڈیئر اور ایک خفیہ ایجنسی کے سربراہ ہیں۔ اریبہ کے مطابق 25 اپریل 2025 کو وہ اور دیگر افراد فواد کی ہدایت پر چکلالہ گیریژن پہنچے جہاں فواد نے انہیں ریسیو کیا اور ایک دفتر میں لے گیا۔ وہاں علی اویس جان نے اپنا تعارف ’’بریگیڈیئر علی جان اویس، انٹیلیجنس ایجنسی‘‘ کے طور پر کروایا جبکہ ایک اور شخص نے اپنے آپ کو ’’کرنل ضیغم عباس‘‘ کہا۔اریبہ رباب نے پولیس کو بتایا کہ ان جعلی افسران نے ان سے مزید 60 لاکھ روپے طلب کیے اور ایک مخصوص اکاؤنٹ نمبر میں ٹرانسفر کرنے کا کہا، جس پر وہ مجبوراً رقم منتقل کرنے پر مجبور ہو گئیں۔
رقم ملتے ہی تمام ملزمان اپنے موبائل نمبرز بند کرکے غائب ہو گئے۔ مدعیہ کے مطابق ملزمان نے ریاستی اداروں کا نام استعمال کرتے ہوئے دھونس، دھمکی اور بلیک میلنگ کے ذریعے مجموعی طور پر 80 لاکھ روپے وصول کیے، جو کہ سنگین جرم ہے۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ لوٹی گئی رقم واپس دلائی جائے اور ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد تفتیش کا آغاز کر دیا ہے تاہم ملزمان تاحال گرفتاری سے بچنے میں کامیاب ہیں۔ پولیس کی جانب سے موبائل ریکارڈ، بینک ٹرانزیکشن اور سی سی ٹی وی کی بنیاد پر چھاپے مارے جا رہے ہیں ، و فاقی دارلحکومت سمیت راولپنڈی میں کال سینٹرز میں شہریوں اور ملازمین کو لوٹنے والے کال سنٹر مافیا ملازمین کو تنخواہ کم اور ایک دن کی چھٹی کرنے پر دس ہزار روپے سے زائد کی رقم کاٹ لیتے ہیں اس طرح مجموعی طور پر کروڑوں روپے ہتھیا لیتے ہیں.

