مظفرآباد(سٹاف رپورٹر ) وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری آج ہوگی پیپلز پارٹی، ن لیگ، پی ٹی آئی فارورڈ بلاک اور آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے دیگر اراکین مظفرآباد پہنچنا شروع ہو گئے ہیں اور شہر میں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں وزیراعظم آزاد کشمیرکے خلاف تحریک عدم اعتماد پر اجلاس آج سہ پہر3 بجے طلب کیا گیا ہے، اجلاس اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے آئین کے آرٹیکل 27 کے تحت طلب کیا ہے دوسری جانب پیپلز پارٹی کا تحریک عدم اعتماد میں اراکین کی حمایت کا دعویٰ 36 سے بڑھ کر 38 ہو گیا ہے اور پیپلز پارٹی کے مطابق پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کے مزید 2 ارکان تحریک عدم اعتماد میں شامل ہو گئے ہیں۔
مسلم لیگ ن وزیراعظم کے خلاف ووٹ دے گی مگر حکومت کا حصہ نہیں بنے گی، مسلم لیگ ن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پر صدر آزاد کشمیر ن لیگ شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر کے دستخط موجود ہیں لیکن مسلم لیگ ن کا قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ برقرار ہے وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے مستعفی ہونے کے بجائے تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے سادہ اکثریت کے 27 ووٹ درکار ہیں، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں اپریل 2023 میں 48 ووٹ حاصل کر کے منتخب ہونے والے وزیراعظم چوہدری انوارالحق اپنے منصب سے فارغ ہو جائیں گے تحریک کامیاب ہوئی تو فیصل ممتاز راٹھور آزاد کشمیر کے 16ویں وزیراعظم ہوں گے اور فیصل ممتاز راٹھور موجودہ اسمبلی کے چوتھے وزیراعظم ہوں گے آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کا حلف کل بروز منگل متوقع ہے، حلف برداری میں پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کی شرکت کا بھی امکان ہے۔
آزاد کشمیر کی نئی حکومت کو دو بڑے سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے ایکشن کمیٹی کے معاہدوں پر عملدرآمد نئی حکومت کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے جبکہ مسلم لیگ ن کا قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ بھی نئی حکومت کے لیے کڑا امتحان ہو گا۔ اس کے علاوہ کابینہ کو 20 وزراء تک محدود رکھنا بھی نئی حکومت کے لیے آزمائش ہوگی۔

