اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے قرطبہ، اسپین میں منعقد ہونے والے انٹرنیشنل اولیو کونسل (IOC) کے 122 ویں اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور اجلاس سے خطاب کیا۔ اس عالمی اجلاس میں مختلف ممالک کے وزراء، ماہرین اور زیتون کے صنعت سے وابستہ رہنما شریک ہوئے۔ اپنے خطاب میں وزیر موصوف نے ہز ایکسی لینسی مسٹر لوئیس پلانس، وزیر برائے زرعی امور، ماہی پروری اور خوراک، اسپین، مسٹر جائمے لیلو، ایگزیکٹو ڈائریکٹر انٹرنیشنل اولیو کونسل، اور اسپین کے زیتون کے شعبے کا پرتپاک میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مسٹر لیلو اور مسٹر جہانگیر، صدر IOC کونسل و نمائندہ ترکیہ، کے ان حوصلہ افزا کلمات کا بھی ذکر کیا جو انہوں نے 11 نومبر 2025 کے ورچوئل اجلاس میں پاکستان کے زیتون کے شعبے کے بارے میں ادا کیے۔
وزیرِ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتِ پاکستان ملک بھر میں ایک پائیدار اور مسابقتی زیتون ویلیو چین کے قیام کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قومی پروگرام کے دو بنیادی مقاصد ہیں: خوردنی تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنا اور زیتون کی کاشت، پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے دیہی کمیونٹیز کے لیے باوقار روزگار کے مواقع پیدا کرنا۔ پاکستان قدرتی طور پر لاکھوں جنگلی زیتون کے درختوں اور تقریباً دس لاکھ ایکڑ ایسی بنجر یا کم پیداواری زمین سے مالا مال ہے جو زیتون کی کاشت کے لیے نہایت موزوں ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں 50 ہزار ایکڑ رقبے پر زیتون کی کاشت کامیابی سے مکمل کی جا چکی ہے، جو زرعی تنوع کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔
رانا تنویر حسین نے بتایا کہ نیشنل اولیو پروگرام صرف زرعی منصوبہ نہیں بلکہ ایک ہمہ جہتی ترقیاتی اقدام ہے جس کے دور رس اثرات ہیں۔ یہ پروگرام موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے، زمین کے کٹاؤ اور صحرا زدگی روکنے، زرعی تنوع بڑھانے اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس وژن کے تحت حکومت نے متعدد سہولیات قائم کی ہیں جن میں 51 زیتون آئل ایکسٹریکشن یونٹس، 6 فروٹ پروسیسنگ فیکٹریاں، 5 ویڈر اسٹیشن، 14 نرسریاں اور 4 اولیو آئل کوالٹی لیبارٹریاں شامل ہیں، جن میں ایک جدید سینسری ایویلیوایشن لیب بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں خواتین اور نوجوانوں کو زیتون کی ویلیو چین کے مختلف مراحل میں تربیت دی گئی ہے، جبکہ 90 سے زائد اسٹارٹ اپس زیتون پر مبنی کاروبار کے ذریعے مقامی معیشت میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیرِ نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ پاکستان کی اسٹارٹ اپ برانڈ “LO – لورالائی اولیو” نے نیویارک اولیو آئل کوالٹی مقابلے میں سلور ایوارڈ جیت کر عالمی سطح پر پاکستانی زیتون کے معیار اور ممکنات کو نمایاں کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے اولیو ویلیو چین پالیسی 2030 بھی تشکیل دی ہے، جو زیتون کے شعبے کی پائیدار ترقی، موثر نظم و نسق اور جدت کے لیے واضح رہنما اصول فراہم کرتی ہے اور بین الاقوامی بہترین طریقوں سے ہم آہنگ ہے۔
وزیرِ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان 2015 کے انٹرنیشنل ایگریمنٹ آن اولیو آئل اینڈ ٹیبل اولیوز کا مکمل رکن بننے کا خواہاں ہے۔ اس سلسلے میں نمایاں پیش رفت کی جا چکی ہے اور پاکستان جلد انٹرنیشنل اولیو کونسل کا فعال اور مؤثر رکن بننے کی امید رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ IOC کی تکنیکی معاونت، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور افرادی قوت کی تربیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان اپنے زیتون کے شعبے کی ترقی کو مزید تیز کر سکے گا آخر میں رانا تنویر حسین نے انٹرنیشنل اولیو کونسل کے مشترکہ وژن—عالمی زیتون کے شعبے میں اعلیٰ معیار، پائیداری اور بین الاقوامی تعاون—کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام رکن ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور عالمی زیتون صنعت کے ایک بہتر، مستحکم اور پائیدار مستقبل کے لیے اپنا پورا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے.

