نیشنل بینک اور حبیب بینک کے درمیان “پنگ پونگ” نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)اسلام آباد میں ہاؤسنگ ہائیرنگ کے چیکوں کی بروقت ٹرانسفر نہ ہونے سے مالک مکان اور کرایہ دار دونوں شدید ذہنی کوفت کا شکار ہیں۔ صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ جن ادائیگیوں کا چند دن میں کلیئر ہونا معمول تھا، وہ اب کئی کئی ہفتے لٹکنے لگی ہیں، بعض کیسز میں بیس سے پچیس روز تک چیک ٹرانسفر نہیں ہو رہے، جس سے شہری سخت اضطراب اور مالی دباؤ میں مبتلا ہو رہے ہیں۔شہریوں نے متعلقہ بینکوں سے رابطہ کیا تو دونوں اداروں نے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال کر خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ National Bank of Pakistan کے مطابق “جیسے ہی متعلقہ سرکاری محکمہ ہمیں رینٹ ٹرانسفر کرنے کا آرڈر بھیجتا ہے.

ہم اُسی دن کی اُسی تاریخ میں چیک متعلقہ بینک کو فارورڈ کر دیتے ہیں۔ تاخیر کی کوئی ذمہ داری ہم پر نہیں بنتی۔” نیشنل بینک نے صاف الفاظ میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ ان کے سسٹم میں نہیں پھنس رہا بلکہ آگے کی کارروائی میں رکاوٹ ہے۔دوسری طرف HBL Melody Branch سے سامنے آنے والی اطلاعات نے معاملہ مزید الجھا دیا ہے۔ میلوڈی برانچ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ عملہ کم ہونے اور ورک لوڈ بڑھنے کی وجہ سے پراسیسنگ میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اسٹاف کی قلت کے باعث ایک ہی برانچ پر پورے اسلام آباد سے بھیجے گئے ہاؤسنگ رینٹ چیکس کا بوجھ آ جاتا ہے، جو سسٹم کو سست کر دیتا ہے۔تاہم جب شہریوں نے براہِ راست Habib Bank Limited سے رابطہ کیا، تو ان کا مؤقف یکسر مختلف نکلا۔ ان کے مطابق “ہمارے اینڈ پر کوئی رکاوٹ موجود نہیں۔ جیسے ہی چیک یا ڈرافٹ ہمیں موصول ہوتا ہے، ہم اگلے ہی دن اسے ٹرانسفر کر دیتے ہیں۔ تاخیر کی وجہ کہیں اور ڈھونڈی جائے۔نتیجہ یہ ہے کہ ایک سادہ سا مالیاتی عمل نیشنل بینک اور حبیب بینک کی باہمی بے ربطی، سست سسٹم، کم عملے اور ذمہ داری سے بچنے کی روش کا شکار ہو چکا ہے۔

اس “پنگ پونگ” کا براہِ راست نقصان اسلام آباد کے اُن شہریوں کو ہو رہا ہے جو سرکاری محکموں میں ہاؤسنگ ہائیرنگ پر گھر کرائے پر دے کر اپنی گزر بسر کرتے ہیں۔ چیکس کی تاخیر سے نہ صرف ان کی ماہانہ مالی منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے بلکہ کرایہ دار بھی دباؤ میں آ کر قبل از وقت نوٹسز دینے لگے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ معاملہ سنگین ہو چکا ہے اور متعلقہ سرکاری محکموں کو چاہیے کہ دونوں بینکوں کے نمائندوں کے ساتھ فوری مشترکہ میٹنگ بلا کر اس مسئلے کے مستقل حل کیلئے باضابطہ میکنزم مرتب کریں۔ شہریوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ چیکس کی ٹریکنگ، آن لائن اسٹیٹس اپڈیٹس اور برانچوں میں عملہ بڑھانے جیسے اقدامات فوری ضروری ہیں، ورنہ مالی بحران اور عدم اعتماد مزید گہرا ہوتا جائے گا۔