مارکیٹ میں شفافیت کے لئے کمپٹیشن کمشین نے موثر کاروائیاں کیں، ادارے کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے. آئی ایم ایف

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں مارکیٹوں میں شفافیت قائم کرنے، نئی سرمایہ کاروں کے لئے مارکیٹ میں داخلے میں حائل رکاوٹیں کو دور کرنے اور ریگولیٹری خامیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے اہم اقدامات کیے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کمپٹیشن کمیشن نے حالیہ برسوں میں اپنی انفورسمنٹ کی صلاحیت کو مضبوط اور مستحکم کیا ہے آئی ایم ایف کی گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی مارکیٹوں میں مختلف سیکٹر ریگولیٹرز کی جانب سے ریگولیشنز میں خامیاں کمپٹیشن کمیشن کی جانب سے مزید مضبوط اور مؤثر مداخلت کی متقاضی ہیں آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کمپٹیشن کمیشن نے نہ صرف انفورسمنٹ کو مضبوط کیا ہے بلکہ عدالتوں میں زیر التوا 200 سے زائد کیسز کا بیک لاگ بھی کلئر کیا۔ آئی ایم ایف نے اس بات کو سراہا ہے کہ کمیشن نے دو سالوں میں ریکارڈ جرمانے ریکور کئے۔ تاہم، کمپٹیشن کمیشن کے ترجمان نے واضح کیا کہ کمیشن نے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات میں تقریباً 70 فیصد کمی کی ہے اور مقدمامت کی فعال پیروی کے نتیجے میں 567 میں سے 428 مقدمات کے فیصلے حاصل کیے ہیں۔

فنڈ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سی سی پی کا نیا قائم کردہ مارکیٹ انٹیلی جنس یونٹ گٹھ جوڑ اور مارکیٹ ہیرا پھیری کے بروقت سراغ رسانی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں اس یونٹ کو مضبوط بنیا جائے تو مارکیٹ میں غیر مسابقتی رویوں کا تیز رفتار خاتمہ ممکن بنا سکتا ہے رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کا کمپٹیشن قانون ایک جدید قانون ہے، مگر کمیشن کی کارروائیوں کے مؤثر نفاذ کے لیے اس ادارے کو مزید وسائل فراہم کرنے اور مستحکم بنانے کی ضرورت ہے کمپٹیشن کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ حکومت نے کمیشن کو مکمل تعاون فراہم کیا ہے اور کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل کے چیئرمین اور ممبران کی بروقت تقرریاں ، مؤثر عدالتی پیش رفت میں مددگار ثابت ہوئیں۔ ترجمان کے مطابق کمیشن نے گزشتہ دو برسوں میں نمایاں اصلاحات کی گئیں ہیں ۔ کمیشن نے گذشتہ دو سالوں میں ایک ارب ایک کروڑ روپے کے جرمانے ریکور کیے، جبکہ پچھلے پندرہ برسوں میں محض 20 کروڑ روپے وصول ہوئے تھے کمپٹیشن کمیشن کے کاڑٹل ڈیپارٹمنٹ نے اب تک 9 ارب روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے ہیں جبکہ دھوکہ دہی پر مبنی اشتہارات کے خلاف کارروائیوں میں بھی تیزی آئی ہے، جس کے نتیجے میں رئیل اسٹیٹ، آٹو موبائل، ڈیری اور تعلیم کے شعبوں میں اقدامات کئے گئے ہیں۔