راولپنڈی (سٹاف رپورٹر )ڈائریکٹر جنرل راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کنزہ مرتضیٰ کی ہدایات پر آر ڈی اے انفورسمنٹ اسکواڈ نے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے چکری روڈ پر دو شادی ہال، گرینڈ رائل مارکی اور دیوان مارکی سمیت 10 کمرشل پراپرٹیز کو سیل کر دیا۔ ایک اور کارروائی میں میٹروپولیٹن پلاننگ اینڈ ٹریفک انجینئرنگ ڈائریکٹوریٹ آر ڈی اے نے غیر قانونی ہاؤسنگ سکیم وقار ٹاؤن، موضع جرارہی، دھوک عبداللہ، راولپنڈی کو نوٹس جاری کر دیا۔ آر ڈی اے نے اس غیر قانونی ہاؤسنگ سکیم پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے ہر قسم کی تعمیرات اور پراپرٹی ٹرانسفر پر سختی سے روک لگا دی ہے۔

ڈی جی آر ڈی اے نے خلاف ورزیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے عوام الناس کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں سے ہر ممکن گریز کریں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ جعلی دعووں یا دھوکے باز عناصر سے متاثر نہ ہوں اور ایسی غیر منظور شدہ سکیموں میں سرمایہ کاری سے خود کو محفوظ رکھیں۔ آر ڈی اے نے سپانسرز اور ڈویلپرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی غیر منظور شدہ اور غیر قانونی سکیموں کی تشہیر فوراً بند کریں اور قانون کے مطابق این او سی/منظوری کے حصول کے لیے آر ڈی اے سے رابطہ کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایم پی اینڈ ٹی ای ڈائریکٹوریٹ نے ایف آئی اے اور سائبر کرائم ونگ کو بھی خط ارسال کیا ہے جس میں نجی ہاؤسنگ سکیموں کی جانب سے سوشل میڈیا، واٹس ایپ، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر غیر قانونی تشہیر کی نشاندہی کی گئی ہے۔

بعض مالکان/ڈویلپرز غلط بیانی سے یہ تاثر دے رہے تھے کہ انہیں آر ڈی اے سے این او سی مل چکا ہے۔ ڈی جی آر ڈی اے نے ایم پی اینڈ ٹی ای ڈائریکٹوریٹ کو ہدایت کی ہے کہ غیر قانونی اور غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سکیموں، کمرشل سرگرمیوں، بکنگ آفسز اور تجاوزات کے خلاف بلا خوف و خطر سخت کارروائی جاری رکھی جائے۔ عوام الناس سے گزارش ہے کہ معلومات یا کسی شکایت کی صورت میں آر ڈی اے سے رابطہ کریں۔

