اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف فیصلے کو حق اور سچ کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں، فیض حمید تمام الزامات کے مرتکب پائے گئے، فوج میں خود احتسابی کا عمل بہت مضبوط ہے جس کی واضح مثال سب نے دیکھ لی ہے۔ جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج انصاف اور قانون کی حکمرانی کا بڑا دن ہے، فیض حمید کو 15 ماہ تک جاری رہنے والا ٹرائل مکمل ہونے کے بعد شواہد کی بنیاد پر سزا سنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے اندر موثر اور مربوط خود احتسابی کا نظام موجود ہے جس کے تحت اختیارات کے ناجائز استعمال، سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی اور سیاسی معاملات میں مداخلت جیسے امور پر سخت کارروائی کی جاتی ہے۔
فیض حمید پر ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں شرکت پر پابندی تھی تاہم اس کے باوجود وہ پی ٹی آئی کے پولیٹیکل ایڈوائزر رہے اور 9 مئی کے واقعات سمیت انتشار انگیز معاملات میں ان کی شمولیت کے ناقابل تردید شواہد سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹاپ سٹی کیس میں بھی انہیں پہلے ہی سزا سنائی جا چکی ہے جبکہ سیاسی معاملات میں مداخلت سے متعلق مزید تحقیقات جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کے لئے بڑا دن ہے کہ ریڈ لائن کراس کرنے، لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنے اور اپنی اتھارٹی کا غلط استعمال کرنے والے شخص کو سزا ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فیض حمید کو ٹرائل کے دوران مکمل موقع فراہم کیا گیا کہ وہ اپنا دفاع کریں اور اپنے حق میں گواہان پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ تمام گواہان کے بیانات قلمبند ہونے اور شواہد کے جامع جائزہ کے بعد فیصلہ سنایا گیا جو قانونی تقاضوں اور انصاف کے اصولوں کے مطابق ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں، فوج کا خود احتسابی کا نظام موجود ہے جس کا اپنا ایک معیار ہے، جو بھی ریڈ لائن عبور یا اختیارات کا غلط استعمال کرے گا، اس کے خلاف کارروائی لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیض حمید نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی سمیت سیاسی معاملات میں ملوث ہونے سے متعلق ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج حق اور سچ کی فتح ہوئی ہے۔

