اسلام آباد(سپیشل رپورٹر)ممبر کسٹم کے حکم کے باوجود کسٹم حکام اور سمگلر مافیاز نے ایکاکرلیا، پشاور اسلام آباد میں سمگلنگ دھڑلے سے جاری مارکیٹیں سمگلنگ کے سامان سے بھر چکی ہیں۔ پشاور اسلام آباد کسٹم کے اینٹی سمگلنگ سکواڈ کی نذرانوں کے عوض مکمل خاموشی، چھوٹے سمگلروں اور مک مکا نہ کرنیوالوں کے خلاف معمولی کاروائی کر کے افسران کو خوش کرنا معمول بن چکا جبکہ مافیا کو کھلی چھٹی دے دی گئی ذرائع کے مطابق ممبر کسٹم نے جب سے چارج سنبھالا ہے سمگلوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی ہدایت جاری کر رکھی ہیں.
لیکن کلیکٹریٹ آف کسٹم کے اینٹی سمگلنگ سکواڈ نے سمگل مافیا سے ساز باز کر رکھی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ چھوٹے مافیا کے خلاف کاروائی کر کے افسران بالا سب اچھا کی رپورٹ بنا کر بھجواتے ہیں لیکن گزشتہ ایک سال سے کروڑوں روپے کا سمگلنگ کا سامان راولپنڈی ڈویژن کے علاوہ پشاور میں کھلے عام مارکیٹوں میں فروخت ہو رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی سمگلنگ سکواڈ اسلام آباد اور پشاور کے چند انسپکٹر ز کی مافیا سے لائن کلیئر ہے جو بڑے سمگلروں کو چھوڑ کر چند چھوٹے گینگ کے ارکان کے خلاف کاروائی کر کے سب اچھا کی رپورٹ ممبر کسٹم کو بھجوا دیتے ہیں .
سابق ممبر کسٹم کے دور میں بھی ملک بھر کے کسٹم کے این ٹی سمگلنگ سکواڈ کے خلاف ٹرانسپورٹ گڈز مالکان پیش ہوئے اور انہوں نے ملک بھر کے اینٹی سمگلنگ سکواڈز کے خلاف شکایات کا انبار لگا دیے جس پر چند ایک کے خلاف کار روائی کر کے ان کو خاموش کرادیاگیاجبکہ باقی معاملات کو گول کر دیاگیا۔

