اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وزیرِ ریلوے کی زیرِ صدارت سکھر ریلوے ڈویژن سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ریلوے انفراسٹرکچر اور مسافروں کی سہولیات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیراعظم پاکستان کی ہدایات پر وزیرِ ریلوے نے وزیراعلیٰ سندھ کے اشتراک سے صوبہ سندھ میں مختلف ریلوے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ، کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن کی کامیاب اپ گریڈیشن کے بعد اب روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے لیے جامع ماسٹر پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں ماہ روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کے لیے ٹینڈر جاری کیے جائیں گے۔
یہ منصوبہ سندھ حکومت کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا، جس میں لاگت کا 50 فیصد سندھ حکومت اور 50 فیصد پاکستان ریلوے برداشت کرے گی۔ وزیرِ ریلوے کے مطابق روہڑی اسٹیشن کی اپ گریڈیشن آئندہ سال جون تک مکمل کی جائے گی، جس کے بعد یہ ملک کے جدید ترین اور بہترین ریلوے اسٹیشنز میں شامل ہوگا ، وزیرِ ریلوے نے کہا کہ روہڑی ریلوے اسٹیشن پر روزانہ 20 ہزار سے زائد مسافروں کی آمد و رفت ہوتی ہے، اس لیے سہولیات میں بہتری ناگزیر ہے۔ انہوں نے روہڑی اسٹیشن کو پاکستان ریلوے کے ایک اہم جنکشن کے طور پر مزید مؤثر بنانے کا بھی اعلان کیا۔
اجلاس میں سکھر ریلوے اسٹیشن کو اس کی اصل تاریخی اور جمالیاتی حالت میں اپ لفٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ سکھر ایکسپریس کے ریکس کی ریفربشمنٹ اور اپ گریڈیشن جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ، وزیراعلیٰ سندھ نے روہڑی منصوبے اور دیگر ترقیاتی امور میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی، جبکہ غیر محفوظ ریلوے کراسنگز کو محفوظ بنانے پر بھی خصوصی توجہ دینے کا وعدہ کیا۔ وزیرِ ریلوے نے وزیراعلیٰ سندھ کے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مسافروں کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے سندھ فوڈ اتھارٹی کو خط ارسال کیا جائے گا، اور فوڈ کوالٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

