اسلام آباد (سپیشل رپورٹر )وزارت توانائی کے افسران نے ملک بھر میں سولر صارفین پر نیا بوجھ ڈال دیا سولر سے حاصل ہونے والی بجلی 25 روپے سے کم کر کے 11 روپے یونٹ کر دیا جبکہ 25 کلو واٹ سے کم لوڈ کا لائسنس لینے کے لیے نیپرا سے لائسنس لینا لازمی قرار دے کر سولر صارفین پر نیا بوجھ ڈال دیا وزارت توانائی نے ملک میں تمام سولر صارفین کے لئے نیٹ میٹرنگ پالیسی تبدیل کرنے کی منظوری دے دی۔
ذرائع کے مطابق وزارت توانائی کہ سیکرٹری اور وفاقی وزیر سمیت دیگر افسران نے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ تمام سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی تبدیل کرنے کی منظوری دے دی ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر توانائی اویس لّغاری اور سیکرٹری توانائی سمیت افسران کا اجلاس ہوا جس میں نیٹ میٹرنگ صارفین پر نیا بوجھ ڈالنے کے لیے سولر صارفین سے جو بجلی لی جاتی تھی وہ 25 روپے 98 پیسے فی یونٹ تھی.
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ ہوا کہ سولر صارفین کو فی یونٹ 25 روپے سے کم کر کے 11 روپے دیا جائے اور 25 کلو واٹ لوڈ والے سولر صارفین کے لیے نیپرا سے لائسنس لینا لازمی ہوگا قبل عظیم 25 کلو واٹ تک کے لائسنس نیپرا سے لینا لازمی قرار نہیں تھا دوسری جانب سولر صارفین نے وزارت توانائی کی جانب سے ریٹ کم کرنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت توانائی نے پہلے عوام سے کہا کہ وہ سولر یونٹ لگائیں اور ان سے 25 روپے یونٹ لیا جائے گا خود بجلی کا ریٹ بڑھا رہے ہیں جبکہ بجلی کی خریداری میں نیٹ میٹرنگ صارفین پر بوجھ ڈال رہے ہیں ذرائع کے مطابق وزارت توانائی نے ڈسکوز اور نیپرا نے کئی ماہ تک مشاورت کے بعد یہ پراسیجر مکمل کیا، وزارت توانائی نے وفاقی حکومت کو بتایا کہ نئی پالیسی کے بنا چلنا ممکن نہیں وزارت توانائی حکام کے مطابق سولر ٹیرف تعین نیپرا ریگولیٹرز کی ذمہ داری ہے، رولز و ٹیرف وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں، صارفین کو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔

