اسلام آباد ( سپیشل رپورٹر )ایف ائی اے ہیومن ٹریفکنگ کی مبینہ ملی بھگت سے جڑواں شہروں میں ٹیکنیکل ٹریڈ سینٹرز میڈیکل سینٹرز نے بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے نوجوانوں سے روزانہ ٹریڈ اور میڈیکل کے نام پر پیسے لے کر کے ماہانہ کروڑوں روپے وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے ذرائع کے مطابق سعودی عرب قطر متحدہ عرب امارات جانے والے نوجوانوں کو جب ویزا مل جاتا ہے تو اس کے بعد ان کا امتحان شروع ہو جاتاہےمیڈیکل اور ٹریڈ کے نام پر مال بٹورا جاتا ہے۔
عوامی شکایات پر اوصاف نے اچانک چھاپہ مارا تو وہاں موجود ٹیسٹ کیلئے آئے بیروزگار نوجوان پھٹ پڑے ۔موقع پر موجود نوجوانوں محمد شکیل آصف محمود، محمد اشرف، عمران، نعیم ،نے اوصاف کو بتایا کہ وہ میڈیکل کروانے کے لیے قطر ویزا سینٹر آئے ہیں جہاں پر زیادہ تر نوجوانوں کو میڈیکل میں فیل کر دیا جاتا ہے۔لیکن اگر کوئی ایجنٹ اسی فیل امیدوار کیلئے اندر جاکر پیسوں کی بات کرے تو فوری ہی وہ کلیئرہوجاتا ہے ۔اوصاف کو تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ میڈیکل کلیئر کروانے کیلئے ایک لاکھ روپے سے زائد کی سرعام رشوت وصول کی جاتی ہے ۔ جس کے بعد ویزہ سینٹر(کیو وی سی)قطر ویزہ سینٹر اور راولپنڈی میں قائم میڈیکل سینٹر میڈیکل سے کلیئر کر دیتے ہیں۔اسی حوالے سے ایف آئی اے حکام اور دیگر اداروں کی پراسرار خاموشی ثابت کرتی ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے؟ دوسری جانب ٹیکنیکل ٹریڈ سینٹر نے بھی روزگار بے روزگار نوجوانوں سے ٹریڈ کے نام پر اسلام اباد راولپنڈی کے پروموٹرز لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں ایف آئی اے اس سارے معا ملے میں خاموش رہتا ہے وہ ان ٹریڈ سنٹروں ، میڈیکل سینٹروں اور پر موٹرز سے ملے ہوئے ہیں ویزے 1 سو آتے ہیں جبکہ پر موٹرز 5 ہزار نوجوانوں سے فیس کے نام پر مال بٹورتے ہیں ۔
جبکہ ٹریڈ میڈیکل کے بعد پروٹیکٹر افس نے بھی بہتی گندم میں ہاتھ دھو رہے ہیں جہاں پر ایجنٹوں اور پروموٹرز کے بغیر پروٹیکٹر ہوتا ہی نہیں بے روزگار نوجوانوں نے وزیراعظم شہباز شریف وزیر داخلہ محسن نقوی وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانی سے اپیل کی ہے کہ مذکورہ بالا ٹریڈ سینٹرز میڈیکل سینٹرز اور پروٹیکٹر افس اور ایف ائی اے کا قبلہ درست کیا جائے تاکہ نوجوان بے روزگار ملک بیرون ملک جا کر پاکستان کو سرمایہ بھیج سکیں میزی لگوانے کے لیے پروموٹرز لاکھوں روپے لیتے ہیں جبکہ پھر بھی انہیں مذکورہ بالا مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

