لاہور (بیورو رپورٹ )یونیورسٹی آف لاہور میں یکے بعد دیگرے خودکشی کرنے کے واقعات بڑھنے لگے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بھاری فیسوں اور اساتذہ کے رویے پر طلبہ کا احتجاج ہے طالبہ نے تنگ ا کر بلڈنگ کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش گزشتہ دنوں ایک طالبعلم استاد کے رویے سے تنگ آکر جان کی بازی ہار گیا جبکہ آج پھر ایک اور طالبہ فاطمہ نے دلبرداشتہ ہوکر چھت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے کی کوشش کی تاہم اس کو بچالیاگیا ۔
پولیس کے مطابق 21 سالہ طالبہ نے بلڈنگ کی دوسری منزل سے چھلانگ لگائی، طالبہ کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ نواب ٹاؤن پولیس نے موقع پر پہنچ کر کارروائی شروع کردی ہے۔پولیس نے بتایا کہ چند روز قبل اسی یونیورسٹی کے ایک طالبعلم نے بھی چوتھی منزل سے کود کر خودکشی کی تھی۔پولس کے مطابق طالبہ ڈی فارم کی طالبہ اورنارنگ منڈی ضلع شیخوپورہ کی رہائشی ہے جبکہ انتظامیہ نے طالبہ کے چھت سے کودنے کے بعد یونیورسٹی کو بند کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ یونیورسٹی آف لاہور میں قبل ازیں ایک طالب علم نے یونیورسٹی لاہور کی بلڈنگ سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا جس کی رپورٹ پولیس نے درج کی پولیس کے مطابق طالب علم نے کلاس روم میں فیس کی عدم ادائیگی پر ٹیچر کی جانب سے اسے کلاس سے باہر نکالنے کے بعد پیش ایا طالب علم دل برداشتہ ہو گیا اور اس نے بلڈنگ پر چڑھ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا اب یہ اسی یونیورسٹی میں دوسرا واقعہ پیش آرہا ہے ۔واقعے کے بعد یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے یونیورسٹی انتظامیہ کی ناکامی قرار دیا۔کیپٹل نیوز پوائنٹ کے مطابق طلبہ نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کا رویہ ناقابل برداشت ہوچکا ہے ۔طلبہ نے فوری طور پر وزیراعظم شہباز شریف،وزیراعلیٰ مریم نواز سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے.

