یونیورسٹی آف لاہور ، پولیس کی مبینہ ساز باز 21 سالہ فاطمہ کی خودکشی کی کوشش کا معاملہ ، دبانے کی کوشش پولیس نے تفتیش کا رخ موڑ لیا

لاہور (بیورو رپورٹ )یونیورسٹی آف لاہور میں خودکشی کرنے والی 21 سالہ طالبہ فاطمہ ہوش مین آگئی جس کے بعد طالبہ کو وینٹیلیٹر سے ہٹا دیا گیا ڈاکٹروں کے مطابق فاطمہ نے اپنے اہل خانہ سے بات چیت بھی کی اب وہ وینٹیلیٹر کے بغیر سانس لے رہی ہے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کا سی جی ایس لیول 14 15 ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ نیورو سرجیکل ڈاکٹروں کی ٹیم اس کی ریڑھ کی ہڈی کے حوالے سے ممکنہ سرجری سے متعلق جائزہ لے رہے ہیں۔

جبکہ دوسری جانب یونیورسٹی آف لاہور میں ہونے والے اس واقعہ میں پولیس خود کشی کی کوشش کے معاملہ میں تفتیش کا رخ موڑنے میں مصروف عمل ہے پولیس ذرائع کا کہنا ہے یونیورسٹی آف لاہور نے پولیس سے مبینہ طور پر معاملات طے کر لیے ہیں جس کے بعد پولیس نے تفتیش کا رخ موڑنے کے لیے متضاد بیانات دینے شروع کر دیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی آف لاہور میں جس روز یہ واقعہ پیش آیا اس روز پولیس کہہ رہی تھی کہ 21 سالہ فاطمہ کا موبائل قبضہ میں لے لیا ہے تفتیش جاری ہے اور موبائل ریکارڈ کے مطابق پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا کہ اس نے اپنے بھائی سے بات کی ہے جبکہ اب پولیس نے تفتیش کا رخ موڑتے ہوئے موبائل کالز کی جو تفصیلات حاصل کی ہیں اس میں ایک نوجوان کو حراست میں لینے کا دعوی کیا ہے تاہم طالبہ کی حالت بہتر ہونے کے بعد ہی ابتدائی بیان کے بعد ہی اس معاملے کی تفتیش آگے بڑھ سکتی ہے ۔

جبکہ تفتیشی ذرائع نے لڑکی کے موبائل سے حاصل ہونے والے یہ ریکارڈ میں دعوی کیا ہے کہ لڑکی دوست سے شادی کرنا چاہتی تھی لیکن ورثا انکاری تھے یہ معاملہ پسند کی شادی کے تنازعہ پر ہوا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی آف لاہور نے معاملے کا رخ موڑنے کے لیے پولیس سے مبینہ ساز باز کی ہے تاکہ یونیورسٹی کو معاملے سے کلیئر کیا جا سکے۔لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش اور شادی کا معاملہ میں پولیس کی تفتیش اس وقت آگے بڑھ سکتی ہے جب لڑکی پولیس کو بیان دے گی اب پولیس لڑکی کا بیان لینے کے لیے انتظار میں ہے . یاد رہے کہ یونیورسٹی اف لاہور میں چند روز قبل ایک لڑکے نے خودکشی کی تھی جس کی تفتیش بھی یونیورسٹی انتظامیہ نے دبا رکھی تھی اور آج تک خودکشی کرنے والے نوجوان کی تخقیقاتی رپورٹ سامنے نہ آسکی.

اسی دوران یونیورسٹی آف لاہور میں میں 21 سالہ فاطمہ کی خودکشی کی کوشش کا دوسرا واقعہ ہوا ۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی آف لاہور نے متعلقہ تھانے سے مبینہ طور پر معاملات طے کر کے اسی یونیورسٹی میں نوجوان کی خودکشی کے واقعہ کی رپورٹ بھی دبا دی تھی اور اب دوبارہ 21 سالہ فاطمہ کی خودکشی کی کوشش کے معاملے کو بھی دبانے میں مصروف ہے جبکہ دوسری جانب یونیورسٹی آف لاہور کے طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ معاملے کو دبانا چاہتی ہے پہلے بھی اسی یونیورسٹی میں جس نوجوان نے خود کشی کی اس کو بھی دبا دیا گیا تھا .

جبکہ رجسٹرار یونیورسٹی آف لاہور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 21 سالہ فاطمہ کو ذہنی مریض قرار دینے کی کوشش کی لیکن طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کے موقف کو یکسر مسترد کر دیا ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی آف لاہور نے 21 سالہ فاطمہ کی خودکشی کی کوشش کے معاملہ کے بعد یونیورسٹی بند کر دی تاکہ یونیورسٹی کے طلباء میڈیا یا کسی کو بیان نہ دے سکیں معاملہ کلیئر ہونے کے بعد ہی یونیورسٹی دوبارہ کھلے گی۔