اسلام آباد (کامرس رپورٹر)ماہی گیری کا شعبہ قومی برآمدات میں 10واں بڑا شراکتدار ہے جو ایک ملین سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے ، مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی )میں ماہی گیری کے شعبے کا حصہ ایک فیصد جبکہ زرعی شعبہ میں 4فیصد ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (یو این ایف اے او) کے مطابق پاکستان میں ماہی گیری کا شعبہ 10 واں بڑا برآمدی شعبہ ہے، گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی قومی برآمدات میں ماہی گیری کے شعبہ کی شراکتداری 1.34فیصد رہی ہے جو اس کی استعداد سے کم ہے۔
رپورٹ کےمطابق مچھلی اور مچھلی کی مصنوعات کی تجارت کا بین الاقوامی حجم سال 2022 میں 195 ارب ڈالر رہا تھا اور ماہی گیری کےشعبہ کی تجارت کا دائرہ کار 230 ممالک تک وسیع ہو چکاہے ۔ یو این ایف اےاوکے مطابق عالمی سطح پر مچھلی اور اسکی کی مصنوعات کی فی کس کھپت 20.7 کلو گرام تک پہنچ چکی ہے جس میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں ماہی گیری کے شعبہ کا حصہ ایک فیصد ہے جبکہ شعبہ برآمدات میں 10 واں بڑا شراکتدار اور زرعی شعبہ میں 4 فیصد کا شراکتدار ہے رپورٹ کے مطابق ماہی گیری کا شعبہ ایک ملین سے زیادہ افراد کو براہ راست روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ 1.5 ملین افراد کے گھریلو اخراجات کی تکمیل میں بھی معاونت فراہم کرتا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ مالی سال کے دوران پاکستان میں مچھلی اور اس کی پیداوار 3 لاکھ ٹن سےزیادہ رہی ہے جس میں سے 30 فیصد حصہ برآمد کیاگیا جبکہ 40 فیصد حصہ سے پولٹری ، ڈیری اور ایکوا کلچر وغیرہ کی خوراک میں استعمال کیاگیا۔ ماہی گیری کے شعبہ کی مجموعی ملکی پیداوار کا 30 فیصد حصہ مقامی سطح پر استعمال کیاگیا ۔
ایف اے او کی رپورٹ کےمطابق ماہی گیری کے شعبہ کی عالمی تجارت کا دائرہ کار 230 ممالک تک پھیل چکاہے اور 2022 میں شعبہ کی بین الاقوامی تجارت کا حجم 195 ارب ڈالر رہا ہے ۔عالمی سطح پر مچھلی اور اس کی مصنوعات کی فی کس کھپت 20.7 کلو گرام ہےجس میں مسلسل اضافہ کا رجحان ہے جبکہ پاکستان میں شرح انتہائی کم ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں مچھلی کی پراسیسنگ کے سو سے زیادہ چھوٹے بڑے پلانٹس کام کر رہے ہیں جبکہ ملک میں مچھلی اور اسکی مصنوعات کے رجسٹرڈ برآمد کنندگان کی تعداد 400کے قریب ہے۔

