اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)پاکستان ریلوے نے پرانی ریل انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن، نیٹ ورک میں توسیع اور طویل عرصے سے نظرانداز کیے گئے حصوں کی بحالی کے لیے ایک جامع پروگرام کا آغاز کر دیا ہےجس کا مقصد سفر کو محفوظ بنانا ، دورانیہ کم کرنا اور قومی رابطہ مضبوط کرنا ہے۔وزارتِ ریلوے کے ایک عہدیدار کے مطابق محکمہ کے پاس ملک بھر میں مجموعی طور پر 11,881 کلومیٹر ٹریک اور 7,791 کلومیٹر روٹ موجود ہیں جن میں سے تقریباً 67 فیصد پٹریاں معیاد پوری کر چکی ہیں۔عہدیدار نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے تک ریل انفراسٹرکچر میں محدود سرمایہ کاری کے باوجود پاکستان ریلوے نے پائیدار سروس فراہمی یقینی بنانے کے لیے اپنے آپریشنز جاری رکھے انہوں نے بتایا کہ وزارت نے ریل پٹریوں کی بگڑتی ہوئی حالت کا ادراک کرتے ہوئے آمدن میں اضافے اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت فنڈنگ کے ذریعے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے خاطر خواہ اقدامات شروع کیے ہیں۔اہم جاری منصوبوں میں تھر کوئلہ کانوں کو ریلوے اسٹیشن سے ملانے والا 105 کلومیٹر طویل نیا ریل لنک شامل ہے، جس سے توانائی کی ترسیل میں سہولت اور علاقائی ترقی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔عہدیدار کے مطابق پی ایس ڈی پی کے تحت ٹریک سیفٹی منصوبوں میں کئی آپریشنل روٹس کی اپ گریڈیشن جاری ہے۔
ان میں ٹنڈو آدم۔روہڑی، روہڑی۔خان پور، کیماڑی۔حیدرآباد، خانیوال۔شورکوٹ۔فیصل آباد۔قلعہ شیخوپورہ۔شاہدرہ، شیر شاہ۔کندیاں، روہڑی۔سبی اور کوٹری۔کھونڈ آباد جیسے اہم حصوں پر فوری اور ناگزیر حفاظتی کام شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد بڑے ریل راہداریوں پر آپریشنل حفاظت اور بھروسہ بڑھانا ہے،منصوبہ بندی کے مرحلے میں، عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان ریلوے نے پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کے مالی تعاون سے برانچ لائنوں کی بڑے پیمانے پر اپ گریڈیشن کی تجاویز دی ہیں،پنجاب میں 1,400 کلومیٹر سے زائد پر مشتمل سات حصوں کی اپ گریڈیشن منصوبہ بند ہے جن میں شاہدرہ۔نارووال۔سیالکوٹ، رائیونڈ۔قصور۔پاکپ۔لودھراں اور کوٹ ادو۔ڈیرہ غازی خان۔کشمور کالونی شامل ہیں سندھ میں تقریباً 1,000 کلومیٹر پر محیط 6 حصے جیسے کراچی۔حیدرآباد، حیدرآباد۔روہڑی کوٹری اوردادو، بہتری کے لیے تجویز کیے گئے ہیں جبکہ بلوچستان میں سریاب۔کوئٹ۔کچلاک کا حصہ بھی اپ گریڈیشن پلان میں شامل ہے۔علاقائی اور بین الاقوامی رابطہ مزید بہتر بنانے کے لیے پاکستان ریلوے نے نئے ریل لنکس کے لیے فزیبلٹی اسٹڈیز شروع کر دی ہیں، جن میں کوہاٹ۔تھل۔پاراچنار۔خرلاچی کے راستے افغانستان سے ممکنہ رابطہ اور گوادر سے نوک کنڈی تک 680 کلومیٹر طویل ریل لنک شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مختلف راستوں کے ذریعے گوادر سے مستونگ اور جیکب آباد تک مستقبل کی ریل رابطہ کاری کے لیے زمین کے حصول کا عمل بھی جاری ہے۔
دریں اثنا پاکستان ریلوے نے 93.41 کلومیٹر طویل سبی۔ہرنائی سیکشن کو کامیابی سے بحال کر دیا ہےجو 2006 سے بند تھا اور اکتوبر 2023 میں دوبارہ ریلوے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سمہ سٹہ ۔بہاول نگر سیکشن کی بحالی کا کام فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او ) کو دے دیا گیا ہے، جس کی تکمیل پی سی ون میں نظرثانی کے بعد متوقع ہے۔عہدیدار کے مطابق یہ اقدامات مسافروں کی سہولت میں نمایاں بہتری، حفاظت میں اضافہ اور بڑے ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان سفر کے وقت میں کمی کا باعث بنیں گےجو پاکستان ریلوے کی جدید کاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

