اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان اور ایس ڈی پی آئی نے تحقیق، پالیسی تجزیے اور شواہد پر مبنی ریسرچ کے ذریعے مختلف شعبوں کے ریگولیٹری فریم ورک کے از سر نو جائزہ کے لیے باہمی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں،مفاہمتی یادداشت پر کمپٹیشن کمیشن کے ممبر سلمان امین اور ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے دستخط کیے۔ اس موقع پر چیئرمین سی سی پی، ڈاکٹر کبیر احمد سدھو اور ایس دی پی آئی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلیری اور دونوں اداروں کے افسران بھی موجود تھے۔

اس موقع پر ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ اس شراکت داری کے تحت دونوں ادارے مختلف شعبوں کے ریگولیٹری فریم ورکس کا مشترکہ جائزہ لیں گے اور انہیں بدلتی ہوئی مارکیٹ کی ضرورتوں کے مطابق اپ ڈیٹ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعاون معیاری تحقیق، رپورٹس اور ڈیٹا کی تیاری میں مدد دے گا تاکہ بہتر پالیسی سازی کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ سسٹم کا فائدہ چند افراد کے بجائے صارفین اور کاروباری طبقے کو مجموعی طور پر ہونا چاہیے اور اسے اجارہ داری اور اولیگوپولی جیسے رجحانات سے پاک ہونا چاہیے.

ڈاکٹر عابد قیوم سلیری نے کہا کہ کمپٹیشن کمیشن کے ساتھ تعاون سے حکومت کی پالیسی سازی کے لیے مضبوط تجزیاتی مواد بنیاد فراہم کی جا سکی گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ تحقیق مختلف شعبوں میں موجود مسائل اور چیلنجز کے حل کے لیے عملی راستے فراہم کرے گی ،دونوں اداروں کےمابین یہ مفاہمتی یادداشت تحقیق، علم کے تبادلے اور استعداد سازی کے شعبوں میں تعاون کا ایک فریم ورک فراہم کرتی ہے، جس کا مقصد پاکستان میں مسابقتی پالیسی کو مستحکم بنانا اور منصفانہ، شفاف مارکیٹوں کا فروغ ہے۔


