اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)نے ماہِ رمضان سے قبل اپنے مختلف فلیگ شپ پروگرامز کے وظائف میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے جس سے ملک بھر میں ایک کروڑ مستحق خاندانوں کو ریلیف ملے گا۔بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے کیپیٹل نیوز پوائنٹ کو کہا کہ بتایا کہ بے نظیر کفالت پروگرام کی سہ ماہی قسط 13 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 14 ہزار 500 روپے کر دی گئی ہے، ایک ہزار روپے اضافے کے ساتھ نئی رقم کی ادائیگی ماہِ رمضان میں کی جائے گی۔
انہوں نے اس اقدام کو مستحقین کے لئے ’’رمضان تحفہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت زمینی حقائق اور مہنگائی کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے معاونت میں اضافہ کر رہی ہے،ہمارا مقصد کمزور طبقات کو درپیش معاشی دباؤ کو کم کرنا ہے۔چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ بے نظیر تعلیمی وظائف پروگرام میں بھی 500 روپے اضافے کی منظوری دی گئی ہے، وہ بچے جن کی سکول حاضری کم از کم 70 فیصد ہوگی انہیں مشروط نقد معاونت کی مد میں بڑھا ہوا وظیفہ دیا جائے گا تاکہ تعلیم کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔اسی طرح بے نظیر نشوونما پروگرام کے تحت بھی 500 روپے اضافے کی منظوری دی گئی ہے، یہ پروگرام حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو غذائی سپلیمنٹس اور مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ صحت مند ماں ہی صحت مند نسل کی ضامن ہوتی ہے اور یہ پروگرام بچوں میں غذائی کمی اور نشوونما کے مسائل کے تدارک میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے مالی شمولیت کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ خواتین مستحقین کے ایک کروڑ بینک اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں جو ایک تاریخی پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت مستحق خواتین کو بی آئی ایس پی دفاتر اور مخصوص کیمپس سے مفت سم کارڈز جاری کئے جائیں گے جو ڈیجیٹل والٹس سے منسلک ہوں گے، ہر قسط کی ادائیگی پر خواتین کو ایس ایم ایس اطلاع موصول ہوگی اور وہ اپنی ضرورت کے مطابق رقم نکال سکیں گی سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون سے بی آئی ایس پی نے اپنے سات شراکت دار بینکوں کے درمیان انٹرآپریبلٹی متعارف کر ا دی ہے، اس سے قبل ہر مستحق کو ایک مخصوص بینک ایجنٹ تک محدود رکھا جاتا تھا تاہم نئے نظام کے تحت وہ کسی بھی پارٹنر بینک کے قریبی یا قابلِ اعتماد ایجنٹ سے رقم وصول کر سکیں گی۔انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ سماجی تحفظ کے پروگرام انحصار کو فروغ دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ افراد محنتی ہیں مگر آمدن اور اخراجات میں توازن قائم نہیں کر پاتے، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی سماجی تحفظ کے نظام موجود ہیں اور بی آئی ایس پی کا مقصد مستقل انحصار نہیں بلکہ وقتی سہارا فراہم کرنا ہے تاکہ مستحقین باعزت طریقے سے آگے بڑھ سکیں۔ہنرمندی کے فروغ کے حوالے سے انہوں نے ہنرمند پروگرام کا ذکر کیا جو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر شروع کیا گیا اس پروگرام کے تحت تقریباً 1500 تربیت یافتہ افراد جلد فارغ التحصیل ہوں گے جبکہ 5 ہزار نئے شرکاء کو مختلف اداروں کے تعاون سے مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں کے مطابق ہنر سکھائے جا رہے ہیں۔سینیٹر روبینہ خالد نے عوام سے اپیل کی کہ ماہِ رمضان کو خدمت اور ہمدردی کا مہینہ بنایا جائے انہوں نے کہا کہ رمضان صرف بھوک پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ منفی رویوں کو ترک کر کے دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خوشیاں کم وسیلہ افراد کے ساتھ بانٹی جائیں اور کسی کا حق نہ مارا جائے تاکہ یہ رمضان سب کے لئے آسانی اور رحمت کا پیغام بن سکے۔

