اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) سرکاری کمپنیوں میں اصلاحات کا آغاز، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کا بڑا ایکشن اسلام آباد: سرکاری کمپنیوں میں گورننس اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے اہم اقدامات کرتے ہوئے ریگولیٹری کمپلائنس کی خلاف ورزیوں پر پی ایچ اے فاؤنڈیشن ، فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن ، اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن سمیت 41 سرکاری کمپنیوں کو شوکاز نوٹسز بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا.
ایس ای سی پی کے مطابق مجموعی طور پر 66 نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، جن میں سے 41 سرکاری کمپنیوں کو شوکاز نوٹسز بھیجے گئے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ 33 کمپنیوں نے سالانہ آڈٹ شدہ اکاؤنٹس جمع نہیں کروائے، جبکہ 26 کمپنیوں نے سالانہ ریٹرنز بھی جمع نہیں کروائے۔ مزید برآں 7 کمپنیوں نے سالانہ جنرل اجلاس منعقد نہیں کیے، جو کمپنی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔ایس ای سی پی نے انکشاف کیا کہ 4 سرکاری کمپنیاں اس وقت بغیر چیف ایگزیکٹو آفیسر کے کام کر رہی ہیں، جبکہ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن نے دسمبر 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال کے گوشوارے بھی جمع نہیں کروائے۔
ادارے کے مطابق شوکاز نوٹسز پر قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد متعلقہ کمپنیوں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ریگولیٹری کمپلائنس نہ کرنے والی کمپنیوں کے نام بھی عوامی آگاہی کے لیے ویب سائٹ پر جاری کیے جائیں گے، ایس ای سی پی نے ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ 48 سرکاری کمپنیوں کے بورڈز میں خواتین کی نمائندگی موجود نہیں۔ اس حوالے سے تمام کمپنیوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ بورڈز میں خواتین ڈائریکٹرز کی تعیناتی کو یقینی بنائیں۔ادارے نے سرکاری کمپنیوں میں کمپلائنس کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ونگ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جو نہ صرف نگرانی کرے گا بلکہ کمپنیوں کو رہنمائی اور معاونت بھی فراہم کرے گا تاکہ قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ایس ای سی پی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد سرکاری کمپنیوں میں شفافیت، جوابدہی اور بہتر گورننس کو فروغ دینا ہے، تاکہ قومی وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
کمپنی لا کی کمپلائنس نہ کرنے والی کمپنیوں کی فہرست جن میں پوسٹل لائف انشورنس کمپنی لمیٹڈ پاک لیبیا ہولڈنگ، کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ ،انرجی کنزرویشن فنڈ ، ڈیولوشن ٹرسٹ فار کمیونٹی امپاورمنٹ ، فیڈرل لیور ٹرانسپلانٹ انڈاؤمنٹ فنڈ ، پاکستان جیمز اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی ، کراچی گارمنٹ سٹی کمپنی ، واپڈا انڈاؤمنٹ فنڈ فار اسپورٹس ، فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ ، نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ ، پی ایچ اے فاؤنڈیشن ، فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن ، اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن ، پاکستان اسٹیل ملز کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ ، پیپلز اسٹیل ملز لمیٹڈ ، کراچی اربن ٹرانسپورٹ کارپوریشن لمیٹڈ ، پاکستان ٹیکسٹائل سٹی لمیٹڈ ، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ.
جینکو ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ ، اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ ، پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ ، پاکستان ریلوے ایڈوائزری اینڈ کنسلٹنسی سروسز لمیٹڈ ، پاکستان ریونیو آٹومیشن ،پرائیویٹ) لمیٹڈ ، پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن لمیٹڈ ، پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ ، پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ ، ریلوے کنسٹرکشنز پاکستان لمیٹڈ ، اسٹیٹ انجینئرنگ کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ ، ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ ، یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ ، ٹرائبل ایریاز الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ ، لاکھڑا پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ ، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ ، کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ ، نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی) ، جامشورو پاور کمپنی لمیٹڈ ، انڈیجینس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ایجنسی (ارادا) (پرائیویٹ) لمیٹڈ ،(اسٹیڈیک ٹیکنالوجی کمرشلائزیشن کارپوریشن آف پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ) ، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ ، نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ ، سیندک میٹلز لمیٹڈ ، پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ

