امریکہ–ایران مذاکرات خطے میں معاشی استحکام کے لیے اہم موڑ ثابت ہوں گے. صدر اسلام آباد چیمبر سردار طاہر محمود

اسلام آباد (کامرس رپورٹر) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے علاقائی معاشی استحکام اور عالمی اعتماد کی بحالی کی جانب ایک تاریخی اور اہم پیش رفت قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ان اہم مذاکرات کی میزبانی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار، متوازن اور امن پسند ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بات چیت کا مقصد حالیہ کشیدگی کے بعد ہونے والی عارضی جنگ بندی کو ایک پائیدار امن میں تبدیل کرنا ہے، جس سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں اقتصادی سرگرمیوں کو استحکام ملے گا۔

صدر آئی سی سی آئی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت کے باعث، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کے مثبت نتائج عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم کریں گے، مہنگائی میں کمی لائیں گے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کریں گے سردار طاہر محمود نے مزید کہا کہ پاکستان کا دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانا اس کے مؤثر سفارتی کردار کا مظہر ہے، جو نہ صرف پاکستان کے عالمی تشخص کو مضبوط بنائے گا بلکہ علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاجر برادری ان مذاکرات کو امید کی نظر سے دیکھ رہی ہے کیونکہ خطے میں امن سے توانائی کی فراہمی میں استحکام آئے گا، تجارت کو فروغ ملے گا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے۔
انہوں نے پاکستان کی قیادت کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پیچیدہ بین الاقوامی صورتحال میں متوازن اور فعال کردار ادا کرنا ایک بڑی کامیابی ہے آخر میں انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن صرف مسلسل مکالمے، باہمی احترام اور تعاون سے ہی ممکن ہے، لہٰذا تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ اس عمل کو جاری رکھیں