farakh afzal capitalnewspoint.com

فرخ افضل قتل کیس، وفاقی پولیس افسر اور ملزمہ ماہ نور شاہ کے مبینہ روابط کا انکشاف

اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) اسلام آباد سے اغواء کے بعد قتل ہونے والے فرخ افضل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمہ ماہ نور شاہ اور وفاقی پولیس کے ایک اہم افسر کے درمیان مبینہ روابط کا انکشاف ہوا ہے، ذرائع کے مطابق مذکورہ افسر ملزمہ ماہ نور شاہ سے اسلام آباد کے سیکٹر ایف ٹین ون میں خفیہ ملاقاتیں بھی کرتا رہا۔ تفتیشی حکام اس الزام کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ ملزمہ نے اسی افسر کی مبینہ مدد سے مقتول فرخ افضل اور اس کے ساتھیوں کے خلاف تین مختلف مقدمات درج کروائے، ذرائع کے مطابق یہ مقدمات 18 اگست، 29 دسمبر اور رواں سال یکم جنوری کو درج کیے گئے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول فرخ افضل نے یکم جنوری کو اپنے دوستوں کو ماہ نور شاہ کی مبینہ دھمکیوں اور جعلی دستاویزات سے متعلق آگاہ کیا تھا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملزمہ مقتول کو فون کالز پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتی رہی، تحقیقات کے دوران مبینہ دھمکی آمیز فون کالز کی ریکارڈنگ بھی سامنے آ گئی ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق ملزمہ کے زیرِ استعمال ایک خفیہ فلیٹ کی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز بھی منظر عام پر آئی ہیں،ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ملزمہ کا ماموں مقتول کے ساتھیوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا رہا، جبکہ ملزمہ نے مقتول سے انتقامی کارروائی کے لیے سیف اللہ نامی شخص کا سہارا لیا۔

فرخ افضل کو مبینہ طور پر 4 مئی کو اغواء کیا گیا اور بعد ازاں خیبر پختونخوا کے ایک علاقے میں قتل کر دیا گیا۔ مقتول کے والد کی مدعیت میں تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج ہے، دوسری جانب تفتیش کے دوران ماہ نور شاہ کے موبائل فون سے متعدد ایس ایچ اوز اور پولیس افسران سے رابطوں کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ مختلف تھانوں میں مقدمات درج کروانے کے معاملے کو بھی تحقیقات کا حصہ بنا لیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق پولیس کا احتسابی نظام متحرک ہو چکا ہے جبکہ ملزمہ کے موبائل فون کا فرانزک آڈٹ جاری ہے۔ اسلام آباد کے بعض ایس ایچ اوز سے روابط کے حوالے سے بھی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس ادارے بھی کیس کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔