اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے سلسلے میں حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اہم مذاکرات کا ایک مرتبہ پھر آغاز ہو گیا ہے، جبکہ بجٹ پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے مشاورت کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز پر تبادلہ خیال کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کا اعلیٰ سطحی وفد وزارتِ خارجہ پہنچ گیا، جہاں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے اہم ملاقات جاری ہے، وفد کی قیادت پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمان اور نوید قمر کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ خزانہ کے سینئر حکام بھی مذاکراتی اجلاس میں شریک ہیں، جبکہ بجٹ 2026-27 کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی سفارشات اور تجاویز حکومت کے سامنے پیش کی جا رہی ہیں۔
مذاکرات کے دوران ترقیاتی فنڈز، عوامی ریلیف اقدامات، محصولات کے اہداف، ترقیاتی اخراجات اور فلاحی منصوبوں سمیت مختلف مالی امور کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، اس کے علاوہ اتحادی جماعتوں کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات اور سفارشات پر بھی غور متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ کی منظوری سے قبل اہم مالی اور سیاسی معاملات پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے تاکہ اتحادی جماعتوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا کی جا سکے، حکومتی اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ بجٹ سے متعلق تمام معاملات افہام و تفہیم اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ مذاکرات آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری اور حکومتی اتحاد کے استحکام کے لیے اہمیت رکھتے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے اختتام پر مشترکہ حکمت عملی اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اہم اعلان بھی متوقع ہے، وفاقی بجٹ پر جاری ان مشاورتوں کے باعث سیاسی اور معاشی حلقوں کی نظریں حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہیں۔

